وم عمران خان کی کون سی بات نہیں بھولے گی؟ اسمبلی اجلاس کے دوران تحریک انصاف نے شیخ رشید کے ساتھ کیا زیادتی کی؟کیا ن لیگ اکیلی ہوگئی ہے؟کیا اپوزیشن اب متحد نہیں رہی؟ جاوید چودھری کاتجزی

عمران خان آج نئے پاکستان کی نئی اسمبلی میں دوسری بار تشریف لائے‘ یہ پہلی بار حلف کیلئے آئے تھے تو یہ ویسٹ کوٹ گھر بھول آئے تھے اور یہ آج سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کیلئے ایوان میں آئے تو یہ اپنا شناختی کارڈ گھر بھول آئے‘سابق سپیکر ایاز صادق نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے انہیں ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت دی‘ شناختی کارڈ بھول جانا کوئی بڑی غلطی‘ کوئی بڑی بھول نہیں‘ یہ بھول معاف کی جا سکتی ہے لیکن قوم عمران خان کو حکومت کے ابتدائی سو دنوں کا ایجنڈا نہیں بھولنے دے گی‘

عمران خان‘ اسد عمر‘ شیریں مزاری اور پرویز خٹک نے ابتدائی سو دنوں کے بارے میں جو کہا تھا، قوم عمران خان کو ویسٹ کوٹ اور شناختی کارڈ کی طرح یہ ایجنڈا نہیں بھولنے دے گی‘ کیا حکومت سو دنوں میں وہ سو کام کر سکے گی جو باقی جماعتیں دو دو ہزار دنوں میں نہیں کر سکیں‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جبکہ آج شاہ محمود قریشی ایوان میں اپنی اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے سب سے بڑے اور اہم اتحادی شیخ رشید کو بھول گئے‘ شیخ رشید کی جماعت عوامی مسلم لیگ ملک کی واحد جماعت ہے جس کی وجہ سے عمران خان وزیراعظم بن رہے ہیں، (شیخ رشید کا دعویٰ ہے) لیکن آپ شاہ محمود قریشی صاحب کی زیادتی دیکھئے آج انہوں نے ان کا شکریہ ہی ادا نہیں کیا‘ میں آج بھی یہ سمجھتا ہوں عمران خان شیخ رشید کے بغیر حکومت نہیں بنا سکیں گے اور اگر خان صاحب یہ غلطی کر بیٹھے تو یہ شیخ رشید کے بغیر حکومت چلا نہیں سکیں گے‘ شیخ صاحب کے ساتھ یہ زیادتی کیوں ہوئی اور آج ایوان میں ن لیگ اکیلی احتجاج کرتی نظر آئی‘ کیا متحدہ اپوزیشن دوسرے اجلاس ہی میں متحدہ نہیں رہی‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔