کسی ڈاکو کو کوئی این آر او نہیں ملے گا ،لوٹا پیسہ واپس لائیں گے اور قوم کو مقروض کرنے والے کسی شخص کو نہیں چھوڑیں گے: عمران خا

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نومنتخب وزیراعظم عمران خا ن نے کہا ہے کہ اللہ کے سامنے وعدہ کرتا ہوں سختی سے احتساب کروں گا،جنہوں نے قوم کا خزانہ لوٹا انہیں معاف نہیں کریں گے ،قوم کو مقروض کرنے والے کسی شخص کو نہیں چھوڑیں گے اور ملک کا پیسہ واپس لائیں گے، کسی نے دھرنا دینا  ہے تو شوق سےدے ،کسی ڈاکو کو کوئی این آر او نہیں ملے گا،مہینے میں 2مرتبہ بطوروزیراعظم سوالوں کے جواب دوں گا ۔

تفصیلات کے مطابق عمران خان کا پارلیمنٹ میں وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہناتھا کہ میں آج اپنی قوم اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے مجھے پاکستان میں وہ تبدیلی لانے کا موقع دیا جس کا 70سال سے انتظار تھا، میں اپنی قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہم ملک میں وہ تبدیلی لے کر آئیں گے جووہ چاہتی ہے۔ ہم سب سے پہلے ملک میں کڑا احتساب کریں گے،قاعد اعظم محمد علی جناح میرے رہنما تھے، میرا قوم سے وعدہ ہے کہ جو لوگ ملک سے پیسہ لوٹ کر بیرون ملک لے گئے تھے ان کو نہیں چھوڑیں گے اورپیسہ واپس لائیں ،ان کا سخت احتساب کریں گے کہ کیسے انہوں نے ہمارے بچوں کا مستقبل ضائع کیا؟۔انہوں نے کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں ملک کسی بھی این آر او یا ڈاکو کو سیٹ نہیں ملے گی ، میں 22سال کی کڑی محنت سے اس مقام پر پہنچا ہوں ، مجھے کسی ڈکٹیٹر نے نہیں پالا ، مجھے کوئی سیاسی تجربہ نہیں ہے ،اپنے محنت سے پاوں پر کھڑا ہوا ہوں ۔ ہر مہینے میں 2بار اس پارلیمنٹ میں کھڑا ہوکربطور وزیراعظم سوالوں کے جواب دیا کروں گا۔میں ان نوجوانوں کا خاص شکر گزار ہوں جن کی وجہ سے آج میں اس مقام پر کھڑا ہوں کیونکہ اگر وہ باہر نہ نکلتے تو تبدیلی نہ آتی ۔ میرا ان نوجوانوں کو پیغام ہے کہ انشااللہ انہیں روزگار کے لئے بیرون ملک نہیں جانا پڑے گا، ان کو اسی ملک میں روز گار ملے گا۔

عمران خان نے کہا کہ پارلیمنٹ میں شور مچانے والوں سے سوال پوچھتا ہوں کہ 2013 میں 4 حلقے کھولنے کے لئے کہتا تھا تو کیا غلطی کی تھی؟،شورمچانے والوں نے میری درخواست پر4حلقے نہیں کھولے اور 4 حلقے کھلوانے کے لئے ہمیں عدالتوں میں جانا پڑا۔اگر میری بات مان لی جاتی تو آج ہمارا انتخابی عمل ٹھیک ہوجاتا،4حلقے کھل جاتے توآج سب کو الیکشن کمیشن پر یقین ہوتا۔ مجھے آج تک نہ کوئی کسی قسم کا بلیک میل کر سکا ہے اور نہ کوئی کرسکے گا، انتخابی نظام کوایسا بنائیں گے کہ ہارنے اورجیتنے والے دونوں قبول کریں گے ۔پچھلے سالوں میں جو قرضہ چڑھایا ہے ان کا سخت احتساب کریں گے،یہی نہیں ہم قوم سے پیسے اکٹھے کرینگے تاکہ کسی ملک کے سامنے بھیک مانگنا اور جھکنا نہ پڑے۔ کپتان کا اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہناتھا کہ دھرنا دینا ہے تو دھرنا دیں ،ہم آپ کو کنٹینر بھی دیں ، کھانا بھی پہنچائیں گے اگر سڑکوں پر نکلنا ہے نکلیں ، احتجاج کرنا ہے کریں آپ لوگ ایک مہینہ سڑک پر گزار لیں ،ہم آپ کی بھی بات مان جائیں گے ، اگر آپ عدالت جائیں گے تو ہم تعاون کریں گے۔ شہبازشریف اور اورفضل الرحمان !لوگ آپ کے لئے ہم بھیجیں گے۔