ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور اوروزیرستان کے منتخب ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑکے درمیان ٹویٹر پرتلخی

لاہور( اے ٹی ایم آن لائن) پاک فوج کے جنرل اور ممبر قومی اسمبلی کے درمیان تلخی کی بنیادی وجہ امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ کا وہ ٹویٹ تھا جس میں انہوں نے ایم این اے محسن داوڑ کے حوالے سے لکھا کہ وزیرستان میں حالیہ مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں ہونیوالی ہلاکت کی ابتدائی ذمہ داری فوج نے قبول کرلی ہے اور متعقلہ افسر کے کورٹ مارشل کی یقین دہانی بھی کرائی ہے جس کے بعد وزیرستان کا احتجاج ختم کیا گیا۔

ڈی جی ایس پی آرنے اس ٹویٹ کےجواب میں وائس امریکہ کی اس خبرکومن گھڑت قراردیتے ہوئے کہا کہ معاملے کی انکوائری کی جارہی ہے۔ابھی حقائق مکمل طور پر سامنے نہیں آئے۔کورٹ مارشل کی یقین دہانی کرائی گئی نہ ہی پاک فوج کی گولی سے کوئی زخمی یا ہلاک ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرستان کے لوگ امن سے محبت کرتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس بیان کے فوری بعد وزیرستان سے ممبرقومی اسمبلی محسن داوڑنے ایک نیا ٹویٹ کیا

جس میں انہوں نے نام لئے بغیر الزام عائد کیا کہ آپ اپنے وعدے سے پیچھے ہٹنے کی روایت پر قائم ہیں۔ اس احتجاج کو ختم کرنے کی پہلی شرط اس الزام کو قبول کرنا تھا اور اس کے بعد مزید تحقیقات ہونا تھیں کیونکہ کئی معصوموں کی جانیں گئیں۔ ہم نے اسی صورت مذاکرات شروع کئے جب دوسری طرف سے غلطی کو پہلے تسلیم کیا گیا۔


محسن داوڑ کی اس ٹویٹ کے بعد صورتحال مزید تلخ ہوگئی جب ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ذاتی ٹویٹر اکاونٹ سے محسن داوڑ کو براہ راست جواب دیا اورلکھا

کہ ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹے نہ ہی لفظوں کو توڑمروڑ کرپیش کرتے ہیں وزیرستان کے بہادر لوگوں اور اس عظیم قوم کی خدمت کرنا کوئی جرم نہیں۔ سچ چھپا نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے محسن داوڑ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم جلدی دیکھو گے کہ دشمن قوتوں سے متعلق سچائی جلد سامنے ہوگی۔ ہم کسی کو امن کے عمل کوواپس کرنے نہیں دینگے۔
سوشل میڈیا پر یہ پہلی مرتبہ دیکھنے کوآیا کہ کھل کر حساس موضوعات پرسخت جملوں کا تبادلہ کیا گیا۔ ان ٹویٹس کے بعد سوشل میڈیا پر زبردست بحث چل نکلی اور ایم این اے محسن داوڑ نے ایک الگ ٹویٹ میں ایک ویڈیو اپ لوڈ کی جو ان کے مطابق مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کئے جانے کی ہے

اس تمام معاملے کے بعد ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ نے مندرجہ ذیل ویڈیو پیغام بھی جاری کیا ہے۔