پنجاب کی نئی کابینہ میں شامل وزراء کی اکثریت کروڑ پتی ، تگڑی جائیدادوں اور اثاثوں کے مالک نکلے

لاہور (اے ٹی ایم آن لائن) سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کے اثاثوں کی کل مالیت 87کروڑ 16لاکھ روپے ہے۔عبدالعلیم خان اور ان کی بیوی کے نام پرلاہور،اسلام آباد اور گوادر میں ساڑھے 15کروڑ روپے کی جائیداد،پاکستان میں 50سے زائد کمپنیوں کے مالک اور شراکت داری کے علاوہ ان کی انگلینڈ اور متحدہ عرب امارات میں کمپنیوں میں بھی شراکت دار داری ہے ان کے پاس 65تولہ سونا ،تین لینڈ کروزرز اور ایک ہنڈا سوک گاڑی ہے۔سالانہ آمدن ایک کروڑ 86لاکھ اورایک سال میں 42لاکھ40ہزار ٹیکس دیا۔تعلیم گریجوایشن ہے

وزیر انڈسٹریز کامرس ڈویلپمینٹ میاں اسلم اقبا ل کی تعلیم بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم بی اے) ماسٹر ڈگری ہے۔اثاثوں کی کل مالیت تین کروڑ 37لاکھ 70ہزار618روپے ہے۔تعلیم بی بی اے فنانس ہے۔

صوبائی وزیر سکول ایجوکیشن مراد راس کے اثاثوں کی مالیت 30لاکھ68ہزا روپے ہے۔20تولہ سونا۔روز ریزیڈنشیا کیمپس روڈ پر ایک اپارٹمنٹ ہے  ۔

صوبائی وزیر ہاوسنگ ایند اربن ڈویلپمنٹ میاں محمودالرشید کے اثاثوں کی کل مالیت20کروڑ،58لاکھ58ہزار روپے ہے۔انہوں نے سال2016اور2017میں پلڈاٹ کی سپانسرشپ پر بھارت اور دبئی کے چار دورے کیے۔ تعلیم ایم اے اکنامکس ہے

 صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد کے اثاثوں کی کل مالیت ایک کروڑ94لاکھ روپے ہے۔۔15تولہ سونا۔66لاکھ کی دو ٹیوٹا گاڑیاں۔۔شوہر کے نام پر 14کروڑ 80لاکھ کا دو کنال کاگھر،چکوال میں 7لاکھ40ہزارکی 100کنال بارانی زمین اور پانچ مرلے کا 85ہزار مالیت کا پلاٹ ہے جبکہ اس کے علاوہ وراثتی زمین بھی ہے۔ تعلیم ایم بی بی ایس اور لندن اور برطانیہ سے بھی میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔20لاکھ روپے کی قرضہ پر  الٹراساونڈ مشین بھی لے رکھی ہے

صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت کی بیوی کے پاس 14لاکھ روپے کی جیولری ہے،12لاکھ کا فرنیچر۔۔ڈی ایچ اے فیز 6میں ایک کنال کا پلاٹ،شامی روڈ لاہور کینٹ میں ایک کنال کا گھر،شامی روڈ کیولری گراونڈ میں ایک کنال کا پلاٹ،رحیم یار خان میں 1584کنال زمین اور لائیو سٹاک میں 48جانور ہیں۔

عباسی سیکیورٹیز پرائیویٹ لمیٹڈ میں 3کروڑ 63لاکھ کی سرمایہ کاری،یوبی ایل میوچئل فنڈ میں تین لاکھ،اتحاد گارڈنز میں 5کروڑ کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔اس کے علاوہ اتحاد شوگر ملز میں 14لاکھ41ہزار969جبکہ الائیڈ ڈسٹلریز میں ایک ہزار شیئرز خرید رکھے ہیں ۔ساڑھے 18لاکھ کی زرعی مشینر ی ہے۔  ایک مرسڈیز ایک کروڑ 25لاکھ،بی ایم ڈبلیو 72لاکھ،ٹیوٹا لائی لکس ساڑھے 27لاکھ،ساڑھے5لاکھ کی جیپ ویلز،لاہور،اسلام آباد اور رحیم یار خان کے مختلف بنکوں میں 19اکاونٹس ہیں ۔

صوبائی وزیر اطلات و کلچر فیاض الحسن چوہان کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30لاکھ روپے ہے۔ تعلیم ایم اے اکنامکس ہے

صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ نارکو ٹکس کنٹرول حافظ ممتاز احمد۔22کروڑ 45لاکھ روپے کی زرعی،کمرشل اور رہائشی جائیداد ہے ،ساڑھے 20کروڑ روپے کا بزنس۔۔45کروڑ 78لاکھ کی جائیداد اور بزنس۔۔ایک کروڑ 45لاکھ کی لینڈ کرورزر۔ تعلیم انٹرمیڈیٹ۔۔۔۔ٹوٹل مالیت 45کروڑ 78لاکھ روپے

صوبائی وزیر برائے خوراک سمیع اللہ چوہدری ،،پیپل کالونی بہاوالپور میں گھر۔۔لودھر اں میں 15مرلہ پلاٹ۔۔الائیڈ سکول کی برانچ اور اطہر ایسوسی ایٹس۔۔۔100تولہ سونا۔۔گاڑی نہیں ہے۔۔75لاکھ کے بانڈز۔۔اڑھائی لاکھ کا فرنیچر۔۔۔تعلیم بی اے ایل ایل بی۔۔2017میں 16722روپے ٹیکس دیا۔۔۔۔کل مالیت ایک کروڑ41لاکھ18ہزار روپے ہے۔۔۔

محمد سبطین خان۔۔گرومانگٹ روڈ گلبر گ میں 6کنال زمین۔۔موضع پپلاں میں 20کنال کا گھر۔۔ضلع میانوالی اور لیہ میں 93ایکڑ زرعی زمین۔۔۔۔32لاکھ کی ٹیوٹا گاڑی۔۔20تو لہ سونا۔۔4کروڑ سے زائد کے بانڈز اور نقد رقم۔۔۔۔2017میں 42ہزار ٹیکس دیا۔۔۔ اثاثوں کی کل مالیت4کروڑ 98لاکھ روپے۔۔۔تعلیم ایم اے پولیٹیکل سائنس ہے

 صوبائی وزیر کمیونی کیشن اینڈ ورکس سردار آصف نکئی کی 1315کنال زرعی زمین جس کی ملکیت 4کروڑ ۔۔ایک ٹیوٹا لینڈ کروزر،ایک ہنڈا سوک،25تولہ سونا۔۔تعلیم بی اے۔۔2017میں 60ہزار ٹیکس دیا۔۔اثاثوں کی کل مالیت 4کروڑ76لاکھ روپے ہے۔۔

حافظ عمار یاسر۔150تولہ سونا،4لاکھ50ہزار کا فرنیچر،ٹیوٹا گاڑی،۔۔ایک کروڑ35لاکھ کی زرعی،کمرشل زمین ہے ایجوکیشن،حافظ قرآن،۔۔کوئی ٹیکس نہیں دیا۔۔اثاثوں کی کل مالیت ایک کروڑ95لاکھ روپے ہے۔

 صوبائی وزیر سیاحت یاسر ہمایوں سرفراز ۔4کروڑ39لاکھ روپے کی پراپرٹی ہے۔200تولہ سونا۔ایک پرانے ماڈل کی گاڑی اور ایک بی ایم ڈبلیو۔ امریکہ میں فارمیسی سمیت7کروڑ50لاکھ کا بزنس کیپٹل،تعلیم بی ایس سی۔۔سال2017میں دو لاکھ86ہزار روپے ٹیکس دیا۔

صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور راجہ بشارت،پٹرول پمپ،لاہور،کراچی اور اسلام آباد میں رہائشی،کمرشل اور زرعی زمین ہے۔ایک ہنڈ ا اور ایک ٹیوٹا گاڑی،10لاکھ کی جیولری۔تعلیم بی اے ایل ایل بی۔

 صوبائی وزیر ریونیو راجہ راشد حفیظ۔سٹیلائیٹ ٹاون راولپنڈی،آرچرڈ سکیم مری روڈ اسلام آباد میں 2کروڑ 74لاکھ کے دو پلاٹ،راجہ جی ایسوسی ایٹس میں 25فیصد،میاں خان اینڈ کو میں 6فیصد شیئرز ہیں۔ایک ٹیوٹا اور ایک ہنڈ ا گاڑی ہے۔مجموعی طور پراثاثوں کی کل مالیت8 کروڑ45لاکھ کی پراپرٹی اور بزنس کیپٹل ہے۔2017میں 15لاکھ97لاکھ روپے ٹیکس دیا۔تعلیم بی اے

سردار حسنین بہادر دریشک۔تعلیم بی ایس سی الیکٹریکل،سال2017میں 10لاکھ39ہزار روپے ٹیکس دیا۔اثاثوں کی کل مالیت 27کروڑ روپے ہے۔

ملک محمد انور۔ایک کروڑ79لاکھ کی گاڑیاں،416گرام سونا،14لاکھ روپے کا فرنیچر،تعلیم بی اے۔سال2017میں 34ہزار روپے ٹیکس دیا۔اثاثوں کی کل مالیت ایک کروڑ31لاکھ روپے ہے

تیمور خان۔زرعی رقبہ88کنال،30لاکھ کے پرائز بانڈ،19لاکھ کی کرولاگاڑی،بیوی کے پاس 300تولہ سونا،تعلیم بی اے،2017میں 16000روپے ٹیکس دیا۔

صوبائی وزیر آبپاشی محسن لغاری،80تولہ سونا،ہنڈا سٹی گاڑی،تعلیم بی اے،2017میں 2لاکھ68ہزار روپے ٹیکس دیا۔اثاثوں کی کل مالیت ایک کروڑ24لاکھ روپے ہے۔

ظہیرا لدین بابر،26لاکھ کی جائیدادیں،21لاکھ روپے کابزنس کیپٹل،3کروڑ10لاکھ کے پرائز بانڈز،ایک ٹیوٹا کرولا ایک ٹیوٹا ہائیلکس،دولاکھ کا فرنیچر ایک لاکھ25ہزار کی رولکس گھڑی،تعلیم بی اے۔سال2017میں چار لاکھ72ہزار روپے ٹیکس دیا۔اثاثوں کی کل مالیت چار کروڑ66لاکھ روپے ہے۔

انصر مجید نیازی کی تعلیم ایف اے،سال2017میں17لاکھ روپے ٹیکس دیا،اثاثوں کی کل مالیت 12کروڑ 43لاکھ روپے ہے۔