حکومتی غیردانشمندانہ اقدامات سے بھٹے اورکوئلے کے کاروبار سے منسلک افرادپریشان، ڈیڑھ کروڑمزدوروں کا مستقبل داؤپرلگ گیا

لاہور(اے ٹی ایم آن لائن) پی ٹی آئی حکومت نے برسراقتدارآکرعوام کو روزگار مہیا کرنے اورانہیں گھردینے کےبلندوبانگ دعوے توکئے ہیں لیکن بعض معاملات میں عجلت اور ناعاقبت اندیشی میں کئے جانے والے فیصلے آگے چل کر حکومت کیلئے مشکلات کا باعث بھی بن سکتے ہیں، ایسا ہی ایک فیصلہ محکمہ ماحولیات پنجاب نے کیا ہے جس میں اینٹ کے بھٹوں کو بیس اکتوبر سے بند کرنے کا حکم جاری کرکے جہاں مالکان کی نیندیں حرام کردیں وہیں اس کاروبار سے منسلک ڈیڑھ کروڑ مزدوروں کا مستقبل بھی داؤپر لگادیا ہے۔

 اس سلسلے میں بھٹہ مالکان کو دسمبر تک کی مہلت دی گئی ہے۔ اگر ایسا ہوتاہے تو کوئلے کی مانگ میں شدید کمی واقع ہوجائیگی جسکی وجہ سے مالکان کو اپنی کانیں مجبوراً بند کرنا پڑیں گی اور اس کاروبار سے جڑے افراد سڑکوں پرآجائینگے جس سے ملک بھرمیں بڑا بحران پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ ادھرپاکستان مائنز اونرزایسوسی ایشن نے متنبہ کیا ہے کہ کہ اگر انہوں نے اپنی کانیں بند نہ کیں تو کوئلے کو ذخیرہ کرنا پڑے گا جوبذات خود ایک خطرناک اقدام ہے کیونکہ کوئلے کو ازخود آگ لگ جاتی ہےاوراگر ایسا نہ بھی ہو تو دوسری صورت میں بارشوں کی زد میں آکر کوئلہ مٹی بن جاتا ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پچھلی حکومت کے دور میں کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاروں نے کثیر رقم خرچ کی تھی اور بیرون ملک سے مہنگی مشینری بھی منگوائی جونہ صرف اس اقدام سے ضائع ہوجائیگی بلکہ ان کی سرمایہ کاری بلاک ہوکررہ جائے گی۔اگر وہ حکومتی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کانیں بند کردیتے ہیں توکانوں میں گیس اور پانی بھرنے سے چھتیں وغیرہ گرنے کا احتمال ہے جبکہ ان کی مرمت بھی ناقابل عمل ہوگی۔اس کے علاوہ اس ظالمانہ اقدام سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ مزدور طبقہ بیروزگارہوکر اپنی آبائی علاقوں میں چلا جائیگاجہاں سےان کی واپسی مشکل سے ہی ہوگی۔یہی نہیں بلکہ اس کے باعث حکومت کوٹیکسز کی مد میں بھی ایک بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ یہی دوماہ ان کیلئے سال بھر کی کمائی کا ذریعہ ہیں لہذٓا حکومت انہیں کم از کم ایک سال کی مہلت دے یا کان کنوں سے کوئلہ خرید کراڑھائی ماہ بعد بھٹہ والوں کو فروخت کردے۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومت بھٹہ والوں یا آجران کو قرضے بھی فراہم کرے۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ کان کنی سے وابستہ افراد معیشت کیلئے بہت اہم ہیں،اگرحکومت پنجاب نے ان کی منشا کیخلاف فیصلے کئے تو نومنتخب وزیراعظم عمران خان کے روزگار پیدا کرنے کے دعوے جہاں غلط ثابت ہونگےوہیں ان کا غریبوں کیلئے پچاس لاکھ گھر بنانے کا وعدہ بھی شرمندہ تعبیرنہیں ہوسکے گا۔