جعلی اکاؤنٹس کیس۔ آصف زرداری کے متعلق اہم فیصلہ

کراچی (اے ٹی ایم آن لائن) سابق صدر کراچی کی بینکنگ کورٹ میں پیش ہوئے جہاں عدالت نے 20 لاکھ روپے کے عوض ان کی عبوری زر ضمانت منظور کی۔ سماعت کے دوران آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے کا سامنا کرنے کو تیار ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی 15 دن کی حفاظتی ضمانت منظور کی اس لیے ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جائے۔ عدالت نے آصف زرداری کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرتے ہوئے 20 لاکھ روپے زرضمانت جمع کرانے کا حکم دیا جس کے بعد کیس کی سماعت 4 ستمبر تک ملتوی کردی۔

آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کی بینکنگ کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کا معاملہ بینکنگ کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں ۔ ایف آئی آر بھی بےبنیاد ہے جس میں ان کے موکل کو ملزم ظاہر نہیں کیا گیا، 2008 میں صدر بننے کے بعد آصف زرداری نے کمپنی سے استعفا دے دیا تھا۔

بینکنگ کورٹ آمد کے موقع پر صحافی نے ان سے سوال کیا کہ آپ ہیلی کاپٹر میں نہیں آئے جس پر انہوں نے کہا کہ آپ کچھ دیر رکیں میں ہیلی کاپٹر میں واپس آتا ہوں۔

صحافی نے سوال کیا کہ صدر پاکستان کون بنےگا جس پر انہوں نے کہا کہ اعتراز احسن صدر پاکستان بنیں گے، ان سے ایک اور سوال کیا گیا کہ آپ کو یقین ہے کہ اعتراز احسن صدر پاکستان بنیں گے جس پر آصف زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہےکہ اعتزاز احسن صدر بنیں۔

یاد رہے کہ جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید، غنی مجید، حسین لوائی اور طحہ رضا گرفتار ہیں جب کہ آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور اور انور مجید کے 3 صاحبزادے عبوری ضمانت پر ہیں۔