کیریئر کی ابتداء میں سرجری کرانے کا مشورہ دیا گیا، لیڈی گاگا

نیویارک(اے ٹی ایم نیوزآن لائن)اپنے لباس، ماڈلنگ کے انداز اور انوکھے طریقوں کے ساتھ موسیقی کی دنیا میں اپنی آواز کا جادو جگانے والی امریکی گلوکارہ لیڈی گاگا نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں کیریئر کےابتدائی وقت میں چہرے کی سرجری کرانے کا مشورہ دیا گیا۔خیال رہے کہ 32 سالہ لیڈی گاگا نے اگرچہ انتہائی کم عمری اور اسکول کے زمانے سے گلوکاری اور ڈانس کی شروعات کی، تاہم انہوں نے پروفیشنل کیریئر کی شروعات 2007 سے کی اور اگلے ہی سال 2008 میں انہوں نے پہلا ایلبم ‘دی فیم’ ریلیز کیا۔

یوں دیکھتے ہی دیکھتے لیڈی گاگا نے موسیقی کی دنیا میں اپنا نام پیدا کیا۔ان کا اصل نام اسٹیفنی جوئین اینجلینا جرمانوٹا ہے، تاہم انہوں نے بعد ازاں اپنا نام لیڈی گاگا رکھا اور بتدریج موسیقی کی دنیا میں کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتی گئیں۔لیڈی گاگا کو اپنے میوزک کنسرٹ کے دوران اور ویڈیوز میں متنازع لباس پہن کر پرفارمنس کرنے سمیت تشدد پر ابھارنے والے مناظر کی عکاسی کرنے کی وجہ سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

لیڈی گاگا براہ راست میوزک کنسرٹس میں بھی رسیوں کی مدد سے لٹک کر پرفارمنس کرنے سمیت انتہائی بھڑکیلے کپڑے پہن کر پرفارمنس کرتی ہیں، جس پر انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔اگرچہ لیڈی گاگا صرف گلوکاری اور اپنے ہی گانوں میں پرفارمنس کرتی ہیں، تاہم اب وہ پہلی بار ایک فلم ‘اے اسٹار از بارن‘ میں اداکاری بھی کرتی دکھائی دیں گی۔

 لیڈی گاگا نے اپنی پہلی فلم کی ریلیز سے قبل انکشاف کیا ہے کہ انہیں موسیقی کا کیریئر شروع کرنے سے قبل مشورہ دیا گیا کہ وہ چہرے کی سرجری کروائیں۔اسکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے لیڈی گاگا نے انکشاف کیا کہ کچھ لوگوں نے انہیں مشورہ دیا کہ انہیں ناک کی سرجری کرانی چاہیے۔گلوکارہ نے اگرچہ یہ نہیں بتایا کہ انہیں یہ مشورہ کس نے دیا، تاہم انہوں نے بتایا کہ انہوں نے یہ تجویز ماننے سے انکار کردیا۔لیڈی گاگا کے مطابق انہوں نے ناک کی سرجری کروانے سے اس لیے انکار کیا، کیوں کہ وہ جیسی ہیں، ایسی ہی دکھنا چاہتی تھیں۔

لیڈی گاگا نے کہا کہ انہوں نے سرجری کے مشورہ پر عمل نہیں کیا، تاہم ان پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے ناک کی سرجری کرا رکھی ہے۔ساتھ ہی گلوکارہ نے اپنی آنے والی فلم ‘اے اسٹار از بارن’ کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ انہیں فلم میں ایک گلوکارہ کا کردار ادا کرکے اچھا لگا اور فلم کی کہانی ان کی زندگی سے بھی ملتی جلتی ہے۔واضح رہے کہ یہ فلم 1937 میں بننے والی امریکی فلم کا آفیشل ریمیک ہے، اس سے زیادہ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اس کا پہلا ریمیک 1976 میں بنایا گیا تھا، اب اسی فلم کا ریمیک تیسری بار بنایا جا رہا ہے۔فلم کی کہانی کو تبدیل نہیں کیا گیا، فلم کی ہدایات بریڈلی کوپر نے دی ہیں، جن کی یہ پہلی فلم ہوگی۔