اسرائیلی طیارہ اور جی ایچ کیو

محمد رضوان خالِد چوھدری
جب سے اسرائیل کے طیارے کی پاکستان آمد کی کہانی منظرِ عام پر آئی ہے گیم تھیوری کا سٹوڈنٹ ہونے کے باعث فطری طور پر میں اس ڈیویلپمینٹ کی وجوہات اور نتائج جاننے کے لیے بے چین تھا.
تبھی اسرائیل کی پالیسیوں پر اتھارٹی سمجھے جانے والے یہودی پروفیسر نارمن فنکلسٹائن صاحب سے کچھ وقت لینے کے لیے اُنسے دو بار رابطہ کیا، پروفیسر صاحب بہت مصروف آدمی ہیں لیکن بالآخر آج اُنکی کال آگئی۔
پروفیسر نارمن فنکلسٹائن ویسے تو بہت بڑے آدمی ہیں البتہ میری انسے کئی معاملات میں ہم آہنگی ہے۔ اگر علمِ نجُوم میں کوئی حقیقت ہے تو یقیناََہم دونوں کی ڈیٹ آف برتھ ایک ہونے کے باعث ہمارا ستارہ مُشترک ہے۔ میری انسے پہلی ڈرامائی ملاقات ایمسٹرڈیم کے ایک ہوٹل میں ہُوئی تھی جہاں میں نے اپنی سالگرہ منانے کے لیے ایک ٹیبل بُک کی تھی۔ اتفاق سے عین اُسی وقت اُسی ہوٹل میں انہوں نے بھی اپنی سالگرہ منانے کے لیے ٹیبل بُک کی ہُوئی تھی۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی یہودی پروفیسر نارمن فنکلسٹائن صیہونی ایسٹیبلشمینٹ کے ویسے ہی شدید ناقِد ہیں جیسے میں پاکستانی فوج کا شدید ناقِد ہُوں.
انہیں بھی یہودیوں کی جانِب سے ہولوکاسٹ کارڈ کے ناجائز استعمال اور خطے میں امریکی پالیسیزپر شدید تنقید کے باعث ’’ مُحبّ وطن‘‘ یہودی حلقوں میں ویسے ہی صلواتیں سُنائی جاتی ہیں,
جیسے پاکستانی فوج کی سیاست اور معیشیت میں مُسلسل، ننگی اور ناجائز مداخلت اور پاکستان کی طاقت سے بھاری دفاعی اخراجات کی تفصیلات کے کے بارے میں لکھنے پر ’’ مُحبّ وطن‘‘ پاکستانی مجھےمختلف القابات سے نوازتے ہیں۔
اتفاق سے میرا سبجیکٹ بھی وہی ہے جو پروفیسر نارمن کا ہے اور میری طرح وہ بھی گیم تھیوری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
بس فرق یہ ہے کہ میں اس سبجیکٹ میں ابھی طفلِ مکتب ہُوں پروفیسر صاحب گیم تھیوری کے اُستاد بھی ہیں اور کافی باخبر بھی۔
بعد ازاں دُنیا بھر میں کئی کانفرنسز اور سیمینارز میں انسے سیکھنے کا موقع ملا۔ یہ صیہونی ایسٹیبلشمینٹ کے شدید ناقد ہونے کے باوجُود اسرائیل کے اُس طبقے میں کافی مقبول ہیں جو اسرائیلی انتہاپسندوں کے برعکس خطے میں امن اور بقائے باہمی کی پالیسیز کا خواہاں ہیں۔ اسرائیلی حکُومت نے دوہزار سولہ میں ان کے نظریات سے مُتاثر تین اعلیٰ
آفیسرز کو دفاع کے ایک اہم ادارے سے فائر کیا تھا۔

پروفیسر صاحب سے آدھے گھنٹے کے قریب ہونے والی بات چیت کا خلاصہ بیان کر دیتا ہُوں۔
اِن کے مطابِق اسرائیلی وزیرِاعظم نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ جنرل ریٹائرڈ اُدی آدم اور اُنکی سٹریٹیجک ٹیم کے افراد مُبیّنہ جہاز میں پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت سے مزاکرات کے لیے گئے تھے۔
پروفیسر صاحب کے بقول جنرل اُدی آدم اسرائیلی ایسٹیبلشمینٹ کے سب سے مُؤثر افراد میں سے ایک ہیں۔ انکے والد بھی جنرل تھے جو لبنان کی جنگ میں مارے گئے تھے۔ جنرل صاحب سٹریٹیجک سٹڈیز کے ماہر ہیں اور اسرائیل کی منسٹری آف ڈیفینس کے ڈائیکٹر جنرل کی حیثیت سے ایران سے مُتعلقہ سٹریٹیجیز کے سپیشلسٹ سمجھے جاتے ہیں۔
پروفیسر صاحب کے مطابق اسرائیلی ڈیفینس ماہرین کی پاکستانی فوجی قیادت سے ملاقاتوں کا اسرائیل کو پاکستان کی جانب سے تسلیم کیے جانے سے کوئی تعلق نہیں نہ ہی اس اقدام سے دونوں ملکوں کو کوئی فائدہ ہو سکتا ہے۔
پروفیسر صاحب کے مطابق اس ملاقات کا تعلق سعودی عرب اور ایران سے متعلقہ بڑے کھیل سے ہے۔
اُنہیں لگتا ہے کہ ایران سے مُتعلق انٹرنیشنل کھلاڑی چند بڑے فیصلے کر چُکے ہیں جنکی ایمپلیمینٹیشن میں حقیقی کردار امریکہ اور سعودی عرب کا ہوگا.
پاکستان کو اس کھیل میں کوئی ثانوی کردار دیا جانے کی توقع ہے اور اسی کردار سے مُتعلقہ لین دین پر تفصیلی مزاکرات کے لیے اس اعلیٰ سطحی ٹیم کو ضمانتیوں کے ہمراہ راولپنڈی بھیجا گیا تھا۔
میرا پروفیسر صاحب سے یہ سوال فطری تھا کہ اتنی بڑی ڈیویلپمینٹ پر عالمی اور پاکستانی میڈیا کیوں خاموش ہے۔
وہ بولے کہیں تُم میڈیا کو آزاد سمجھنے والے لوگوں میں سے تو نہیں ہو۔۔

محمد رضوان خالِد چوھدری شعبہ کے لحاظ سے پروفیسر ہیں ، بہت سی اسلامی و تاریخی کتابوں کے مصنف ، کالم نگار ، اور اردو انگلش کے لکھاری ہیں، وہ جنوبی پنجاب سے ممبر صوبائی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑ چکے ہیں

نوٹ : (ادارے کا کسی بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں )