ملکی سیاسی تنازع ‘خون خرابے’ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، سری لنکن پارلیمانی اسپیکر

فوٹو: اے پی

کولمبو(اے ٹی ایم نیوز آن لائن) سری لنکا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کارو جےسوریا نے خبردار کیا ہے کہ ملک کا موجودہ سیاسی تنازع ‘خون خرابے’ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق کارو جےسوریا نے کہا کہ انہوں نے ملک کے صدر میتھری پالا سری سینا سے بات کی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی معطلی کا فیصلہ واپس لے لیں اور قانون سازوں کو، برطرف کیے گئے وزیر اعظم اور سربراہ مملکت کے درمیان زیادہ طاقتور ہونے کی کوشش کا معاملہ حل کرانے کا موقع دیں۔

کارو جےسوریا نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘ہمیں اس مسئلے کو پارلیمنٹ کے ذریعے حل کرنا چاہیے، لیکن ہم یہ مسئلہ اگر سڑکوں پر لے آئے تو بڑے پیمانے پر خون خرابہ ہوگا۔’

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے میتھریپالا سری سینا پر زور دیا ہے کہ وہ رانِل وِکراماسِنگے کو پارلیمانی ووٹ کے ذریعے اپنی اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیں۔

واضح رہے کہ سری لنکن صدر نے 26 اکتوبر کو پارلیمنٹ کو 26 نومبر تک معطل کرتے ہوئے وزیرِ اعظم رانل وکراماسنگے اور ان کی کابینہ کو برطرف کردیا تھا۔

رانل وکراماسنگے کو برطرف کرنے کے بعد صدر نے سابق وزیر اعظم مہندا راجاپاکسے وزارت عظمیٰ کا قلمدان سونپ دیا تھا۔
برطرفی کے بعد رانل وکراماسنگے کا کہنا تھا کہ قانون سازوں کی اکثریت ان کے ساتھ ہے اور پارلیمنٹ کی بحالی چاہتی ہے۔

انہوں نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر صحافیوں کو بتایا تھا کہ ‘اس وقت ایک خلا موجود ہے اور کسی ایک شخص کے پاس ملک کی باگ دوڑ نہیں، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کا اجلاس فوری طلب کیا جائے تاکہ فیصلہ ہوسکے کا حکمرانی کا حق کس کو حاصل ہے۔’

خیال رہے کہ رانل وکراماسنگے کی برطرفی کے بعد سری لنکا میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور برطرف کابینہ کے وزیر کے محافظ کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک جبکہ 2 زخمی ہوگئے تھے۔

اتوار کو سری لنکن صدر کے حامیوں کا ایک گروہ معزول کابینہ کے وزیر پیٹرولیم کے دفتر کے باہر مظاہرہ کررہا تھا، اس دوران مظاہرین نے وزیرپیٹرولیم ارجنا رانا ٹنگا کو دفتر میں محصور کردیا جس پر ان کے محافظ نے فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں ایک 34 سالہ آدمی ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے۔