بالی وڈ میں تبدیلی سے زیادہ شور مچا ہوا ہے

ممبئی(اے ٹی ایم نیوز آن بھارت میں جاری می ٹو مہم کا حصہ بنتے ہوئے کئی خواتین سامنے آئیں جنہوں نے ان مردوں کے خلاف آواز بھی اٹھائی جنہوں نے کبھی انہیں جنسی ہراساں کیا یا کرنے کی کوشش کی۔
اس مہم کی مدد سے ان اداروں کو خواتین کے لیے محفوظ بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا، جہاں وہ کام کرنے پر مطمئن محسوس نہیں کرتی۔ تاہم بولی وڈ اداکارہ ملائیکا اروڑا کا ماننا ہے کہ اس مہم کے بعد بھارت میں آوازیں تو بہت اٹھائی گئی تاہم تبدیلی اس وقت کہیں نظر نہیں آرہی۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ملائیکا کا ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ ’مجھے کوئی تبدیلی تو نظر نہیں آرہی، لوگوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، لیکن تبدیلی سے زیادہ شور مچا ہوا ہے‘۔
تنوشری دتہ کے نانا ماٹیکر پر انہیں ہراساں کرنے کے الزام کے بعد کئی خواتین نے سامنے آخر ویکاس بہل، چیتن بھگت، کیلاش کھیر، رجت کپور، آلوک ناتھ، انو ملک اور ساجد خان جیسے نامور اسٹارز پر جسنی ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔
اس حوالے سے ملائیکا اروڑا کا کہنا تھا کہ ’ابھی بھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے، سب می ٹو کی بات تو کررہے ہیں لیکن اصل تبدیلی کے لیے لوگوں کو جمع ہونا پڑے گا اور پھر کچھ کرنا ہوگا، لوگوں کی سوچ کو تبدیل کرنا ضروری ہے اور کسی کی سوچ کو ایک رات میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا‘۔ ملائیکا نے اس سے قبل بھی می ٹو مہم پر بات کی تھی، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی۔
یاد رہے کہ حال ہی میں ملائیکا اروڑا کے حوالے سے یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ وہ اگلے سال خود سے 11 سال چھوٹے اداکار ارجن کپور سے شادی کرنے جارہی ہیں۔ تاہم اداکارہ نے اپنے انٹرویو میں اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔