عمران قاروق قتل کیس میں ایم پیش رفت، وزارت داخلہ کا الطاف حسین کے ریڈ وارنٹس کیلئے انٹرپول سے رابطے کا فیصلہ

فائل فوٹو

اسلام آباد(اے ٹی ایم نیوز آن لائن) وزارت داخلہ نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے ریڈ وارنٹس کے لیے انٹرپول سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے کہ الطاف حسین کے ریڈ وارنٹس جاری کرنے کے لیے انٹرپول سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ وزارت داخلہ نے بانی ایم کیو ایم کے ریڈ وارنٹس کے لیے ایف آئی اے کی طرف سے انٹرپول سے رابطے کی درخواست کی منظوری دے دی ہے۔

ایف آئی اے انٹرپول سے بانی ایم کیو ایم کے ریڈ وارنٹس حاصل کرنے کے لیے خط لکھے گی اور ایف آئی اے ونگ بانی ایم کیو ایم کی حوالگی کے لیے متعلقہ دستاویزات بھی انٹرپول کو بھیجے گی۔

نجی ٹی وی کے مطابق ایم کیو ایم کے سابق رہنما عمران فاروق کے قتل کیس میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے انسداد دہشتگردی ونگ نے سال 17-2016 میں مقدمہ درج کیا تھا۔

ایف آئی اے انسداد دہشت گردی ونگ کے سربراہ مظہر الحق کاکا خیل کی منظوری سے کیس میں بانی ایم کیوایم کی پاکستان حوالگی کے لیے وزارت داخلہ کو ایک درخواست بھجوائی گئی تھی جسے وزارت نے منظور کرلیا ہے۔

عمران فاروق قتل کیس کا پسِ منظر

پچاس سالہ ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو لندن میں ان کی رہائش گاہ کے باہر قتل کیا گیا تھا۔
ایف آئی اے نے 2015 میں عمران فاروق کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے شبے میں بانی متحدہ اور ایم کیو ایم کے دیگر سینئر رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

کیس میں محسن علی سید، معظم خان اور خالد شمیم کو بھی قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا جب کہ میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک اور ملزم کاشف خان کامران کی موت واقع ہو چکی ہے۔