نوجوانی میں پیش آنے والے صحت کے پانچ مسائل

لاہور(اے ٹی ایم نیوز آن لائن) ڈبلیوایچ او کی رپورٹ کے مطابق 1.3 ملین نوعمرافراد ایسی بیماریوں سے موت کاشکارہورہے ہیں جوقابل علاج ہیں۔یہ امراض شدید طبی مسائل کی حد میں آتے ہیں جیسے ایچ آئی وی کی وجہ سے ہونے والے دل کے حالات،ذہنی خلفشارکی وجہ سے خودکشی کارجحان۔
مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ ترنوجوانوں کویہ معلوم نہیں ہوتاکہ زیادہ ترامراض کوصرف منظم نہیں کیاجاسکتابلکہ ابتدائی مرحلے میںان کاعلاج ممکن ہوتاہے۔اس کامطلب یہ ہے کہ ابتدائی علاج سے زیادہ ترہونے والی اموات کوآسانی سے روکاجاسکتاہے۔صحت کے مسائل سے متعلق خطرات ،نشانیوں ،علامات اورخطرناک عوامل کے بارے میں لوگوں کوتعلیم دی جاتی ہے۔
عام طورپرہونے والے صحت کے خطرات میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

1۔متعدی امراض

متعدی امراض پہلے سے کہیں زیادہ عام ہورہے ہیں۔ ڈائیریا،فلو،گردن توڑبخار،نظام تنفس کے انفیکشن بچوں اوربڑوں میں یکساںطورپر عام ہیں۔یہ نوجوان بچوں اوربالغوں میںہونے والی ا موات کا سبب بنتے ہیں۔

2۔ایچ آئی وی

یہ بہت تشویش کی بات ہے کہ ایچ آئی وی میںروزبروز کس طرح اضافہ ہورہاہے۔ایچ آئی وی سے ہونے والی اموات کی شرح اب تک 35 فیصد سے زیادہ نہیں ہے لیکن ہرگزرتے دن کے ساتھ اس بیماری میںمستقل اضافہ ہورہاہے۔زیادہ سے زیادہ نوجوان اس بیماری کاشکارہورہے ہیں۔انھیں اس متعدی وائرس کوکیسے کنٹرول کرنایاروکناہے اس کاکوئی آئیڈیانہیںہوتاہے۔اگرچہ افریقہ میں یہ حالت زیادہ شدت اختیارکرچکی ہے۔عام تصورکے مقابلے میںایچ آئی وی کی شرح میں اب بھی دنیابھرمی ںتیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

3۔دماغی صحت میں خلل /خرابی

ڈپریشن جنگل کی آگ کی طرح پھیلاہواہے۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ آپ کس قومیت،ملک یامعاشی طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔مطالعہ سے پتاچلتاہے کے نوعمرافراد میں ڈپریشن کی وجہ سے خودکشی موت کاتیسرااہم سبب بن گیا ہے۔یہ بچوں اوربڑوں کی ہیبت ناک ضرورت بنتی جارہی ہے۔ذہنی حالات کوبہتربنانے کے لئے بہت سے آلات اورطریقہ کارہیں۔ایسے پروگرام ہیںجوڈپریشن کی علامات اورنشانیوںکے بارے میں سکھاتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ذہنی صورتحال سے نمٹنے کے لئے کیااقدامات کئے جاسکتے ہیںانھیں متعارف کروایاجاناچاہئے۔سپورٹ کے مراکز،مشاورت اوررہنمائی ایک اوربہترین طریقہ ہے جس کواس عمل میں شامل کیاجاناچاہئے اورضروری ہے کہ ان سب طریقوں کولوگوں کی پہنچ میں ہوناچاہئے۔زیادہ ترلوگوں کواس بات کی آگاہی دی جاتی ہے کہ ذہنی حالات کی خرابی بھی جسمانی امراض کی طرح ہی ہوتی ہے۔اکثرلوگ ان صورتحال سے نمٹنے کے لئے مددکے خواہاں ہوتے ہیں۔

4۔نوعمری میں ٹھہرنے والاحمل

حالیہ دنوں میں زیادہ سے زیادہ نوعمرلڑکیاںحاملہ ہورہی ہیںاوربچوں کوکم عمری میںہی جنم دے رہی ہیں۔بعض اوقات ان کی عمرصرف 15-19سال کے درمیان ہوتی ہے۔نہ صرف یہ کہ نوجوانوں کومانع حمل اشیاء کے بارے میں معلومات اوررسائی حاصل نہیں ہے بلکہ ان میں محفوظ جنسی تعلقات کی معلومات کی بھی کمی ہے۔جب لڑکیاں حاملہ ہوجاتی ہیں تووہ معاشرہ اورخاندان کے دباؤ کے وجہ سے ان حالات کوپوشیدہ رکھنے کہ وجہ سے نظراندازکرکے مزیدخراب کردیتی ہیں۔اس کے نتیجے میں قبل از وقت پیدائش،مس کیرج،ابارشن اورایسے بچوں کی پیدائش سامنے آتی ہے جومکمل طورپرصحت مند نہیں ہوتے۔

5۔غذائیت کی کمی اورموٹاپا

تیسری دنیاکے ممالک کایہ ایک بہت ہی سنگین مسئلہ ہے۔کچھ ایسے لوگ ہیں جوموٹے ہورہے ہیںاورکچھ ایسے بھی ہیں جوغذائیت کی کمی کاشکارنظرآتے ہیں۔اس وجہ سے صحت کے مختلف مسائل کے خطرات میں اضافہ کاامکان ہوتاہے جوجلد اموات اوربگڑی ہوئی صحت کاباعث بنتاہے۔
یہ ضروری ہے کہ حکومت ان امراض کی روک تھام کے لئے اقدامات کرے جبکہ لوگوں میں یہ شعورہوناچاہئے کہ وہ خود کوکیسے بیمارہونے سے بچاسکتے ہیں۔