خون میں کیلشم کی کمی خطرناک ہوسکتی ہے

لاہور(اے ٹی ایم نیوز آن لائن) دودھ وہ واحد مشروب ہے جواکیلے ہی بچہ کی چھ ماہ تک مکمل نشوونماکرسکتاہے۔اس میں کیلشیم سمیت تمام نوسے زائد اہم غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں۔اگرچہ ہم سب ہی ان حقائق سے آگاہ ہیں اورانھیں تسلیم بھی کرتے ہیں لیکن اکثرلوگ دودھ اوردیگرڈیری مصنوعات کااستعمال نہیں کرتے ۔جس کی وجہ سے خون میں کیلشیم کی سطح کم ہوجاتی ہے اوراسے ہائپوکیلسیمیا(یعنی خون میں کیلشیم کی مقدارکاکم ہونا)قراردیاجاتاہے۔
خون میں کیلشیم کی سطح میں اتارچڑھاؤ کی وجہ سے مختلف پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔مختلف ہارمون مختلف اعضاء پرکام کرتے ہیں۔جیسے کیلشیم پٹھوں کی اینٹھن میں مرکزی کرداراداکرتاہے۔کیلشیم کی کم سطح نیورومسکیولرکی سرگرمی کومتاثرکرتی ہے۔جس کی وجہ سے طویل عرصے تک جسم کے ایک یا کئی حصوں میں اینٹھن یا سن ہونے کی شکایت ہوسکتی ہے۔
جب ہمارے خون میں کیلشیم کی مقدارکم ہونے لگتی ہے توکیاہوتاہے؟
زیادہ ترکیسزمیں کیلشیم کی سطح آہستہ آہستہ کم ہونے کی وجہ سے غیرمستحکم علامات نشوونماپانے لگتی ہیں۔جب رفتہ رفتہ بڑھنے والی ان علامات پراکثردھیان نہیں دیاجاتایااسے عام تھکاوٹ اورکمزوری سمجھاجاتاہے تواس سے ہمارے جسم کے اہم اعضاء متاثرہونے لگتے ہیں۔

اعصابی علامات
ہم میںسے کتنے لوگ اپنی ٹانگوں میںہلکی اینٹھن یاسن ہونے کی علامات محسوس کرتے ہیں۔اسے ہم خوداپنے اٹھنے یا بیٹھنے کے انداز کے مسائل کے ذریعے بھی تشخیص کرسکتے ہیں۔ پن اورسوئیاں جنھیں طبی طورپرپیرستھیزیا یعنی محسوس کرنے کاغیرمعمولی پن کہاجاتاہے۔اگراس سے یہ دردکنٹرول نہیں ہوتاتویہ دائمی درد کانتیجہ ہوسکتاہے۔کچھ معاملات میں ہائپوکیلسیمیا کی ابتدائی علامات محسوس کرنے کاغیرمعمولی پن ہے جس سے منہ کے اطراف اینٹھن کاعجیب سا احساس ہوتاہے۔

مسکیولرعلامات
ہم میں سے کتنے لوگوں کو اکثرپٹھوں میں کھچاوٹ اوراینٹھن کاتجربہ ہواہے۔اورہم میں سے کتنے لوگوں نے اسے ہائپوکیلسیمیا سے منسوب کیاہے۔پٹھوں میں کھچاوٹ اوراینٹھن کاعلاج عام طورسے گھروں میںپین کلرکے ذریعہ کیاجاتاہے لیکن بنیادی وجہ کی تشخیص نہیں ہوپاتی۔ اگرنرخرے کے پٹھے اس سے متاثرہونے لگیںتویہ اینٹھن شدید ہوسکتی ہے اورتشنج پیدا کرنے کاباعث بن سکتی ہے جومہلک ثابت ہوسکتاہے۔

قلبی علامات
مندرجہ بالاپٹھوں کے مسائل می ںدل کے پٹھے بھی شامل ہیں جوسینے میں دردکاباعث بن سکتے ہیں۔یہ صورتحال سنگین نوعیت اختیارکرسکتی ہے جب ای سی جی میں تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے۔ جیسے ہارٹ اٹیک ہونے والوں میں ہائپوکیلسیمیابہت زیاد ہ دیکھنے میں آتاہے۔ طبی ماہرین دل کے ٹیسٹ کرواتے ہیں تاکہ فوری طورپرشریان کے امراض کاپتہ لگایاجاسکے۔اس وقت وہ کیلشیم کی سطح جانچنے کے لئے سادہ سے بلڈ ٹیسٹ کونظراندازکردیتے ہیں۔

طرزعمل کی علامات
ہائپوکیلسیمیادماغ کے ساتھ ساتھ جسم پربھی اثرانداز ہوتی ہے۔خون میں کیلشیم کی کم مقدارسے عام علامات جیسے بھولنے کی عادت اورموڈ کی خرابی اوربعض صورتوں میں شخصیت میں تبدیلی کوبھی ہائپوکیلسیمیاسے منسوب کیاجاتاہے۔
اس کے بارے میں زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ہم میں سے اکثرہائپوکیلسیمیاکاشکارہیںاورہم یہ بات جانتے بھی نہیں ہیں۔معتدل علامات کاپتہ نہیں چلتا اورتشخیصی ٹیسٹ اکثرتاخیرکاشکارہوجاتے ہیں اورنیوروفزیولوجیکل یاکارڈیوپلمینیری ٹیسٹ کوترجیح دی جاتی ہے۔
تشویش کی ایک بات اوریہ ہے کہ اکثرلیبارٹریز کیلشیم کے غلط نتائج فراہم کررہی ہیں۔کیلشیم پروٹین کوباؤنڈ کرتاہے۔جسم میں پروٹین کی مقدارکیلشیم کی مقدارپراثراندازہوسکتی ہے جس کاپتہ لگایاجاسکتاہے۔لہٰذایہ ضروری ہے کہ کیلشیم کے صحیح نتائج حاصل کرنے کے لئے البیومن (پروٹین)کاپتہ لگایاجائے۔
ہائپوکیلسیمیاکی تشخیص پہلاقدم ہے۔اس کی وجوہات کی تلاش میں اس کی جڑوں تک پہنچنادوسراچیلنج ہے۔ہائپوکیلسیمیا کی وجوہات کاسلسلہ مخصوص حالتوں میںجیسے ہائپوپیراتھائی رائڈزم غیرمخصوص حالتوں میں جیسے نازک امراض ہیں۔وجہ کچھ بھی ہوعلاج کاتعلق براہ راست کیلشیم سے ہے جوزبانی یاانجیکشن کے ذریعے اگرضرورت ہوتودی جاتی ہے۔
آخری بات بس یہی ہے کہ ہم ان تمام مسائل سے بچنے کیلئے کیلشیم کی مناسب مقداردودھ اوردیگرڈیری مصنوعات کے ذریعے لے سکتے ہیں۔ملک شیک یاسادہ دودھ یاکوکیزلیں بس اس بات کویقینی بنائیں کہ آپ کسی بھی شکل میں دودھ لیتے ہوں۔تاکہ ہمارے جسم میں کیلشیم کی کافی مقدارجمع ہوجائے اورکیلشیم کایہ خزانہ مستقبل میں ہماری حفاظت کرسکے۔