روشنی ٔطبع

ڈاکٹرصفدرمحمود
کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ آپ کا استاد آپ کا دوست بن جاتا ہے اور یوں یہ مقدس رشتہ عمر بھر کا قیمتی اثاثہ ثابت ہوتا ہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر مرزا محمد منور میرے رسمی ا ستاد تو نہیں تھے کیونکہ وہ اردو کے استاد تھے اور میں عمر بھر اردو کا طالبعلم نہیں رہا۔ مرزا صاحب چلتا پھرتا علم کا خزانہ تھے، چنانچہ ان سے ایسا تعلق قائم ہوا جو ان کی وفات تک مضبوط سے مضبوط تر ہوتا رہا۔ وہ کبھی کبھار مجھے کہا کرتے تھے کہ تم نے دیہات کی شادیوں میں ہوائی دیکھی ہوگی ،میں مسکرا کر جواب دیتا کہ جی ہاں بہت بار دیکھی ہے۔ وہ کہتے کہ ہوائی کو جب آگ دکھائی جاتی ہے تووہ روشنی کی کرنیں بکھیرتی اور آنکھوں کو چکا چوند کرتی بلندی کا سفر طے کرنے لگتی ہے، پھر اچانک مٹی کے ڈھیر کی مانند زمین پہ آن گرتی ہے۔ صفدر تمہاری مثال بھی ہوائی جیسی ہے۔ چالیس برس کی عمر تک خوب لکھا، خوب تحقیق کی اور حوالہ جاتی کتابیں لکھیں، ساتھ ساتھ افسانے بھی لکھے، طنز و مزاح سے بھی چھیڑ خانی کی، چند ایک غزلیں بھی تخلیق کیں اور پھر ٹھُس ہوگئے۔ میں ا ن کی سرزنش انجوائے کرتا اور مسکرا کر کوئی اور موضوع چھیڑ دیتا۔ حقیقت بھی یہی تھی کہ اس دور میں رات ایک دو بجے تک ریسرچ ورک میں مصروف رہنا، لکھنا اور پھر صبح آٹھ بجے دفتر میں موجود ہونا میرا معمول تھا۔ دو بجے تک ڈٹ کر دفتر کا کام کرنا اور گھر واپس آکر کتابیں کھول لینا ایک طرح سے عادت بن چکی تھی، چنانچہ ایک طرف کتابیں لکھنے اور چھپنے کا سلسلہ جاری رہتا تو دوسری طرف افسانے، انشائیے اور طنزیہ مضامین رسائل میں چھپتے رہتے۔ یہ وہ دور تھا جب کتابیں پڑھی جاتی تھیں اور کتاب کا ایک ہزار کا ایڈیشن عام طور پر نو دس ماہ میں بک جاتا تھا۔ آج کے عالم و فاضل دور میں پبلشر کتاب چھاپ کر خود بھی شرمسار ہوتا ہے اور مصنف کو بھی شرمسار کرتا ہے۔ ملک کی آبادی بیس کروڑ، کتابیں پڑھنے والے یہی کوئی دو تین سو۔
معاف کیجئے بات ذرا دور نکل گئی اور اصل موضوع کا دامن ہاتھ سے چھوٹا جارہا ہے۔ ذاتی پس منظر میں مجھے وہ لوگ نہایت قابل رشک لگتے ہیں جو ستر، بہتر برس کی عمر میں بھی تحقیق کرتے اور دھڑا دھڑ کتابیں چھاپتے ہیں۔ ویسے تو یہی عمر ذہنی بلوغت اور علمی پختگی کی ہوتی ہے اور دنیا بھر میںا سکالرز، لکھاری، محققین اسی عمر میں اعلیٰ معیار کی کتابیں لکھتے اور علم کی روشنی پھیلاتے ہیں اسی عمر میں سیاستدان، سابق حکمران آرام سے بیٹھ کر اپنی سوانح عمریاں اور تجربات سپرد قلم کرتے ہیں۔
میں اسے لکھاریوں کی کرم فرمائی سمجھتا ہوں کہ وہ مجھے کتابیں بھجواتے رہتے ہیں لیکن ان دنوں مجھے دو مہربان دوستوں نے نہ صرف خوشگوار حیرت میں مبتلا کیا ہے بلکہ مجھے ان پہ رشک بھی آنے لگا ہے۔ یقین رکھیں یہ سچا رشک ہے، حسد نہیں کیونکہ حسد اور رشک میں بڑا باریک سا فرق ہوتا ہے۔ یہ دو قابل رشک حضرات ہیں جناب قیوم نظامی صاحب اور جناب ضیاء شاہد صاحب۔ یہ دونوں حضرات جنم جنم کے لکھاری ہیں لیکن اب اچانک دونوں حضرات نے کتابوں کی بارش کردی ہے۔ جناب نظامی صاحب پی پی پی کے جیالے اور متحرک کارکن تھے۔ اس لئے سیاست ان کا اوڑھنا بچھونا رہا ہے۔ انہوں نے سیاست اور تاریخ سے ہٹ کر ایسی کتابیں لکھی ہیں جو نہ صرف زندہ رہیں گی بلکہ ان کی بخشش کا سامان بھی بنیں گی۔ عمر کے آخری حصے میں بخشش کا سامان صرف وہی لوگ کرتے ہیں جنہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ یہ توفیق عطا فرماتے ہیں ورنہ میرے سامنے سینکڑوں ایسے حضرات ہیں جنہیں اس عمر میں بھی یہ توفیق نصیب نہیں ہوئی۔ قیوم نظامی نے گزشتہ چند برسوں میں ایسی کتابیں لکھی ہیں کہ میں انہیں’’ماہر معاملات‘‘کے نام سے یاد کرتا ہوں۔ معاملات رسول ﷺ، معاملات عمرؓ، معاملات علیؓ، معاملات ابوبکر صدیقؓ اور آخر میں ’’معاملات انسان اور قرآن‘‘ ایسی کتابیں ہیں جو عام قارئین اور نوجوان طلبہ سے لے کر عالم و فاضل حضرات تک سبھی کے لئے روشنی طبع کا سامان ہیں۔ عام فہم اور دلچسپ انداز میں تحریر کردہ ان کتابوں کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ یہ روزمرہ کی زندگی کے حوالے سے لکھی گئی ہیں اور ان میں زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں رہنمائی ملتی ہے۔
جناب ضیاء شاہد نامور سینئر صحافی و ایڈیٹر ہیں اور اس کے باوجود وہ درجن سے زیادہ کتابوں کے والد ماجد بھی ہیں بلکہ سنیارٹی کے حساب سے دادا جان ہیں۔ گزشتہ چند ماہ میں دھڑا دھڑ کتابیں چھاپ کر وہ قابل رشک شخصیت بن گئے ہیں۔ ان کی کتابیں معلومات کا خزانہ ہیں اور مستقبل کے محققین کے لئے اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ تاریخ میں جہاں دستاویز بنیادی حوالہ سمجھی جاتی ہیں وہاں عینی شاہد کے مشاہدات کو بھی اوریجنل سورس کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ مجھے ضیاء شاہد صاحب کی یہ تین کتابیں پڑھنے کا موقع ملا ہے (1)’’قلم چہرے‘‘ (2) ’’گاندھی کے چیلے‘‘ (3)’’میرا دوست، نواز شریف‘‘۔ قلم چہرے حیرت انگیز کتاب ہے اور بہت سی اہم شخصیات کے اصل چہرے دکھاتی ہے۔ گاندھی کے چیلے نہایت محنت سے لکھی گئی تحقیقی کتاب ہے۔ میرا دوست نواز شریف اپنے موضوع پر ایک اہم کتاب ہے جسے پڑھ کر مجھے ضیاء شاہد کے دوستوں پر رحم آنے لگا ہے اور کچھ کچھ خوف بھی۔ اس میں ایک مقام پر میرا ذکر بھی ہے جو میری یادداشت کے مطابق صحیح نہیں لیکن میں خوف کے مارے انہیں کہہ بھی نہیں سکتا۔
ایک اہم کتاب جو مجھے پسند آئی اور جس کے مصنف نے’’جاں سوزی‘‘ کرکے مواد اکٹھا کیا اور علمی انداز میں اسے اپنے مطالعے کا حاصل بنادیا وہ ہے محترم عرفان احمد بھٹی کی کتاب’’میرا مطالعہ‘‘ ۔ جسے شاہد اعوان صاحب نے ذوق اشاعت کا نمونہ بنادیا ہے بیس ابواب پر مشتمل یہ کتاب بیس لکھاریوں کی زندگی کے احوال اور فکری، تحقیقی اور علمی سفر کی داستان ہے جو ایک منفرد کارنامے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب کو پسند کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں ایک باب میرے بارے میں ہے جسے میں اعزاز سمجھتا ہوں۔