کچھ بھی کرلو

مظہربرلاس
مولانا فضل الرحمٰن کا دورہ لاہور ناکام ہوگیا ہے، انہوں نے نواز شریف کے ساتھ دو گھنٹوں کے دوران کئی مرتبہ’’دھوبی پٹکا‘‘ مارنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ اس ناکامی کے بعد مولانا صاحب کو سیاست کی چالبازیوں سے تھوڑا وقت نکال کر قرآن پاک کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ پتہ چل سکے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کے مابین دنوں کو پھیرتا رہتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کو کبھی مال کے گھاٹے سے اور کبھی اولاد کے گھاٹے سے آزماتا ہے۔ ہوسکتا ہے یہ مولانا صاحب کی آزمائش کے ایام ہوں، آزمائش کی ان گھڑیوں میں مولانا صاحب کو یہ ایام گھر پر گزارنے چاہئیں۔ مولانا سے میری پرانی نیاز مندی ہے اس لئے مولانا کو میرا مفت مشورہ ہے کہ مولانا صاحب آپ جن دو جماعتوں کو اے پی سی میں لانے کے لئے ضدکررہے ہیں، وہ دونوں ہی طوفان کی زد میں ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں کا خیبر پختونخوا میں برا حال ہے، آپ کا اصل میدان بھی خیبر پختونخوا ہے۔ ان دونوں جماعتوں کا مستقبل میں بھی اس صوبے میں کمال دکھانے کا کوئی ارادہ نہیں، آج نہیں تو کل، اگر آپ نے اقتدار کی راہ اختیار کرنی ہی ہے تو پھر آپ کو پی ٹی آئی سے مراسم بڑھانا پڑیں گے، اگر آپ ایسا نہ کرسکے تو پھر خیبر پختونخوا میں آپ کے حصے میں کچھ نہیں آئے گا۔ بہتر یہی ہے کہ آپ ورد وظیفہ کے ذریعے راستہ نکالنے کی کوشش کریں۔ ابھی آپ کو صرف یہ شکوہ سننا پڑا ہے کہ ’’میری اور مریم کی گرفتاری کے وقت اے پی سی کیوں یاد نہ آئی…..‘‘ آنے والے وقت میں آپ کو مزید شکوے سننا پڑسکتے ہیں کیونکہ بہت سی گرفتاریاں ہونے والی ہیں، آنے والے ماحول سے پریشان ہو کر آصف زرداری نے پریس کانفرنسیں شروع کردی ہیں، دوستوں کی گرفتاریوں کے شکوے شروع کردئیے ہیں، جعلی اکائونٹس کو’’ٹریڈنگ اکائونٹس‘‘ کا نام دینا شروع کردیا ہے مگر یہ سارے حربےکام آتے دکھائی نہیں دے رہے، کیونکہ اس سلسلے میں بہت سا کام ہوچکا ہے، یہ کام پچھلے کئی برس سے جاری تھا، اب تو اس کام کا نتیجہ برآمد ہورہا ہے۔ مولانا صاحب نے جن پتوں پر تکیہ کیا ہوا ہے، وہ پتے کچھ دنوں میں ہوا دینا شروع کردیںگے۔ نئی نئی پریشانیاں سامنے آنے والی ہیں، شریف خاندان کو ابھی بہت سے مراحل سے گزرنا ہے، مراحل کی تکمیل پر وہ سیاست کے قابل نہیں رہیں گے، انہیں بھی مفت مشورہ ہے کہ وہ کسی صاحب کشف سے ملیں، وہ انہیں بہت کچھ بتادے گا، حتیٰ کہ بیگم کلثوم نواز مرحومہ کے حالات بھی بتادے گا۔ لاہور کے پہلوانوں کا خاندان میاں شیر محمد شرقپوری کا مرید رہا ہے، میاں صاحب خود صاحب کشف القبور تھے ہوسکتا ہے کہ ان کی اولاد میں سے کوئی ایسا ہو یا کسی اور جگہ کہیں کوئی ایسا ہو۔
صاحبو! لوگ پوچھتے ہیں کہ ایک ایسے طیارے کی پاکستانی میڈیا میں دھوم ہے جو پاکستان میں آیا ہی نہیں، پاکستانی میڈیا ایک افواہ پر تو بہت سرگرم ہے لیکن یہی پاکستانی میڈیا’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘کی اسٹوری پر کیوں خاموش ہے، یہی پاکستانی میڈیا انگلستان کے اخبار’’دی مرر‘‘ کی حقیقت پر مبنی خبروں پر کیوں چپ ہے؟ اسی لئے لوگ بددل ہوتے جارہے ہیں کہ یہ کیسا میڈیا ہے اور یہ کیسے میڈیا پرسنز ہیں جو افواہ سازی کو تو گرم جوشی مہیا کرتے ہیں مگر حقیقت کو لوگوں سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا کہ یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے، شاید یہ اس لئے ہورہا ہے کہ سالہا سال تک لوٹ مار کرنے والی سیاسی جماعتوں کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے، ایک سادہ سا سوال قوم پوچھتی ہے پچھلے دس سال میں جو چوبیس ہزار ارب قرضہ لیا، ا ٓخر وہ کہاں گیا، کہاں خرچ ہوا، کون لوٹ کر لے گیا، اس کا کوئی حساب کتاب ہونا چاہئے۔ اس سادہ سے سوال کا جواب صرف گرفتاریاں ہی دے سکتی ہیں، کوئی کچھ بھی کرلے گرفتاریوں کا یہ عمل رکنے والا نہیں بلکہ مزید گرفتاریاں ہوں گی، ایسے ایسے لوگ گرفتار ہوں گے جنہیں لوگ بڑاپارسا سمجھتے ہیں۔ اس میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہوں نے مذہب کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے، بس تھوڑا سا انتظار خاص طور پر سابق باریش وزیر خزانہ انتظار کریں۔ دیانتداری کی جنگ میڈیا کے زورپر نہیں جیتی جاسکتی، اس کے لئے سچا اور امانتدار ہونا ضروری ہے، چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ’’پہلی بار ملک ترقی کی طرف جاتا محسوس ہورہا ہے‘‘ یہی سچ ہے ورنہ ماضی کے حالات کی گواہی سرور ارمان کے یہ اشعار دے رہے ہیں کہ؎

شب تاریخ چپ تھی، درودیوار چپ تھے

نمود صبحِ نو کے سبھی آثار چپ تھے

ہوائیں چیختی تھیں، فضائیں گونجتی تھیں

قبیلہ بٹ رہا تھا مگر سردار چپ تھے

زمانہ چاہتا تھا کہانی کا تسلسل

مگر پردے کے پیچھے سبھی کردار چپ تھے