ڈکار مارنے والے!

عطاءالحق قاسمی
ہم اور آپ تو کھانا کھا کر زیر لب الحمد للہ کہہ لیتے ہیں اگر ہم میں سے کچھ زیر لب بھی نہیں کہتے تو کم سے کم دل میں اللہ تعالیٰ کے لئے خیر سگالی کے جذبات ضرور پیدا ہوتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو سرے سے ان تکلفات میں پڑتے ہی نہیں بلکہ وہ کھانا کھا کر اپنے ڈولوں کو تھپکی دے لیتے ہیں تاہم ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کا شمار ان احسان ناشناسوں میں نہیں ہوتا جو کھانا کھا کر اپنے ڈولوں کو تھپکی دیتے ہیں یا سرگوشی کے انداز میں الحمد للہ کہتے ہیں بلکہ اس طبقے کے افراد خدا کا شکر ادا کرنے کا حق ادا کر دیتے ہیں اور بعد از طعام اپنی پوری آواز کے ساتھ الحمد للہ کہتے ہیں تاہم ان کی آواز کا والیم گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ یعنی ان کی الحمدللہ کی کوالٹی کھانے کی کوالٹی سے متعین ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر مرغ پلائو کھایا ہے تو ان کی الحمد للہ سے علاقے کے دروبام ہل گئے ہیں اور یوں وہ خداوند تعالیٰ کے لئے شکریئے کے یہ الفاظ براہ راست خداوند تعالیٰ تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اگر انہیں کھانے میں دال وغیرہ ملے تو ان کا چہرہ کھنچ جاتا ہے اور ہونٹ ہلنے لگتے ہیں ان لمحوں میں پتا نہیں چلتا کہ وہ خدا کا شکر ادا کر رہے ہیں یا گلہ کر رہے ہیں۔
لیکن ان تین طبقوں کے علاوہ ایک طبقہ اور بھی ہے اور میرے نزدیک کھانا کھا کر خدا کا شکر ادا کرنے والے گروہوں میں یہ گروہ صاحب اسلوب واقع ہوا ہے متذکرہ ’’فرقے‘‘ کے لوگ اس ضمن میں زبان یا ہونٹوں سے کام نہیں لیتے بلکہ شکر ادا کرنے کی یہ ذمہ داری اپنے حلق کو سونپ دیتے ہیں چنانچہ ایک زور دار ڈکار مار کر وہ اپنے اس فرض سے سبکدوش ہو جاتے ہیں میں نے ان لوگوں کو اپنے اس فرض کے سلسلے میں کبھی کوتاہی کرتے نہیں پایا اور نہ ہی کبھی یہ محسوس کیا ہے کہ اس ضمن میں وہ معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتے ہوں بلکہ وہ ڈٹ کر کھاتے ہیں۔ کھل کر ڈکار مارتے ہیں اور محفل سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ بااصول لوگ ہیں اور یہ اس لئے کہ وہ اپنے ڈکار کے رستے میں کسی کو حائل نہیں ہونے دیتے نہ تہذیب کو، نہ شائستگی کو اور نہ کسی کی پسند اور ناپسند کو۔ صرف یہی نہیں یہ لوگ ڈکار سے کئی کام لیتے ہیں مثلاً کھانا کھانے کے بعد کسی سے گفتگو کے دوران اگر بحث میں الجھ جائیں تو ڈکار مار کر حریف کو میدان خالی کر دینے پر مجبور کر دیتے ہیں چنانچہ یہ لوگ جلوت کی وضع داریوں بلکہ خلوت کی نزاکتوں کو بھی خاطر میں نہیں لاتے اور جب جی چاہے ڈکار مار دیتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ کومیٹمنٹ والے لوگ ہیں تاہم یہ پتا نہیں چلتاکہ ان کی کومیٹ منٹ خدا کا شکر ادا کرنے کے فریضے کے ساتھ ہے یا ڈکار کے ساتھ ہے۔
اب اگر ڈکار مارنے والوں ہی کا ذکر چھڑ گیا ہے تو لگے ہاتھوں ایک طبقے کا حوالہ بیان کرتے چلیں گو اس طبقے کی تعداد زیادہ افراد پر مشتمل نہیں ہے لیکن یہ مٹھی بھر لوگ اپنے نعرہ ہائے مستانہ سے بڑے بڑوں کا منہ پھیر دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہار منہ ہی ڈکار مارتے ہیں اورپورے محلے کو دہلا کر رکھ دیتے ہیں اس طرح کے ایک بزرگ میرے علاقے میں بھی موجود تھے وہ علی الصبح بیدار ہوتے اور ڈکارنا شروع کر دیتے جس کی دھمک میرے گھر تک بھی پہنچتی ، جب تک یہ بزرگ ہمارے علاقے میں مکین رہے محلے والوں کو گھڑیوں کے الارم لگانے کی ضرورت کبھی نہیں پڑی، یہ بزرگ جب کسی سے ملنے جاتے تو دروازے پر لگی گھنٹی بجانے کی بجائے ڈکار مارتے بچے کو ڈرانا مقصود ہوتا تو ڈکار مارتے، بچے کی ماں کو دھمکانا ہوتا تو بھی ڈکار مارتے اور تواور کوئی جلسہ الٹانا ہوتا تو ان کی خدمات حاصل کی جاتیں، یہ مرکزی مقرر کی تقریر کے دوران مسلسل ڈکارتے رہتے غرضیکہ اس بزرگ کا ڈکار بہت کثیر المقاصد واقع ہوا تھا۔ مجھے اگر کوئی پریشانی تھی تو صرف یہ کہ متذکرہ بزرگ میرے گھر کے بہت قریب ’’واقع‘‘ ہوئے تھے۔
ممکن ہے میں اس بزرگ اور ان کی متذکرہ سرگرمیوں کے معاملے میں کچھ مبالغے سے کام لے گیا ہوں لیکن ان کے نعرہ ہائے مستانہ کی گونج بہرحال اپنی جگہ ایک حقیقت تھی چنانچہ میں نے اپنی حیرت رفع کرنے کے لئے اپنے ایک ڈاکٹر دوست سے بات کی اور متذکرہ بزرگ کے محیرالعقول ڈکاروں کا ذکر کیا تو دوست نے بتایا کہ یہ ایک بیماری ہے اور پھر اس نے اس کی بہت سی طبی وجوہ بھی گنوائیں لیکن مجھے ان طبی وجوہ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی چنانچہ میں نے اس ڈاکٹر دوست سے اپنی اصل الجھن بیان کی اور وہ یہ کہ جو لوگ پیٹ بھر کر کھاتے ہیں اور پھر با آواز بلند ڈکار مارتے ہیں تو اس سے ان کا خاندانی نجابت کا پتا چلتا ہے لیکن یہ نہار منہ ڈکار مارنے والے آخر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں مگر میرا یہ دوست اس وقت کج بحثی کے موڈ میں تھا چنانچہ اس نے میری یہ بات سنی اَن سنی کر دی اور کہا پتا نہیں یار تم کیا کہہ رہے ہو میری سمجھ میں تو آج تک وہ لوگ نہیں آئے جو قوموں کو لوٹ کر کھا جاتے ہیں اور ڈکار تک نہیں مارتے، میری مانو تم ان نہار منہ ڈکار مارنے والوں کو غنیمت سمجھو۔