چیف جسٹس پاکستان لانگ مارچ کرنے کو تیار ، اہم ریماکس دے دیے

اسلام آباد(اے ٹی ایم نیوز آن لائن)چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں بنچ نے آبادی میں اضافے سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت کی،وفاقی سیکرٹری صحت ،ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے،عدالتی حکم پرقائم کمیٹی نے سفارشات پیش کردیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے قومی وصوبائی سطح پرٹاسک فورس بنانے کی سفارش کی۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پہلے بتائیں ملک کاسب سے بڑامسئلہ کیا ہے؟،وفاقی سیکرٹری صحت اورایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سب سے بڑامسئلہ آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہے،سیکرٹری صحت نے کہا کہ آبادی کامسئلہ مردم شماری کے بعد شدت سے سامنے آیا،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آبادی کنٹرول کرنے کیلئے مناسب مہم نہیں چلائی جارہی،ڈیم کے بعدسب سے اہم کام آبادی کنٹرول کرنا ہے،پانی سمیت انسانوں کودرکاروسائل کم ہورہے ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ فیکٹریاں لگاکرپانی پیدانہیں کیاجاسکتا،پانی کم اور پینے والے زیادہ ہو رہے ہیں۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ تمام شفارشات ٹی وی چینلزپرنشر کرنے کاحکم دے رہے ہیں،وفاقی اورصوبائی حکومتیں سفارشات پرجواب جمع کرائیں،2 ہفتے بعدعدالت سیمینارکااہتمام کرے گی،سیمینارمیں وزرائے اعلیٰ سمیت اعلیٰ حکام شرکت کریں گے،چیف جسٹس نے کہا کہ عام آدمی کو انگریزی نہیں آتی ،سفارشات کاترجمہ کرائیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ آبادی کنٹرول کرنے کیلئے لانگ مارچ پربھی تیارہوں،خودسڑک پرآکرآگاہی فراہم کروں گا،30 سال بعد 45 کروڑعوام کوسہولتیں کیسے دیں گے؟حکام آج ہی لاؤڈسپیکراٹھا کرنکلیں،آگاہی مہم چلائیں،سیکرٹری صحت نے کہا کہ سفارشات کومشترکہ مفادات کونسل میں پیش کرناہے،سفارشات کومنظوری تک پبلک نہ کیاجائے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آرڈرمیں لکھ دیں گے سفارشات منظوری سے مشروط ہیں،ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے کہا کہ آبادی کنٹرول کرنے کیلئے مذہبی معاملہ بھی دیکھناہوگا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اپنے بچوں کو کہنا پڑے گا بچے 2 ہی اچھے،عدالت نے آبادی کنٹرول کیلئے کمیٹی سفارشات کوعام کرنے کاحکم دیدیا،عدالت نے پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیاکوسفارشات من وعن نشراورشائع کرنے کاحکم دیدیا۔عدالت نے ریمارکس کہا کہ 3 دن تک میڈیامیں سفارشات کی تشہیرکی جائے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آگاہی مہم کیلئے واک کابھی اہتمام کیاجاسکتاہے،وکلااورارکان اسمبلی پلے کارڈ زاٹھاکرنکلیں،عدالت نے 10روز میں مشترکہ مفادات کونسل اجلاس بلانے کاحکم دیدیااورکمیٹی سفارشات کومشترکہ مفادات کونسل میں پیش کرنے کاحکم دیدیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے،اسے ہدایات نہیں دے سکتے،آبادی کنٹرول کیلئے تمام سٹیک ہولڈرزکومل کرکام کرناہوگا، عدالت نے آبادی کنٹرول سے متعلق کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔