منرل واٹر کی بجائے گھڑے کا پانی پی لیں ،منرل واٹرکمپنیوں کے مالکان 13 نومبر کو طلب ، چیف جسٹس

اسلام آباد(اے ٹی ایم نیوز آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ہم عوام سے درخواست کرتے ہیں بوتل کے بجائے گھڑے کا پانی پی لیں، بوتل کا پانی ایسے ہی ہے جیسے چلتے دریا کا پانی۔سپریم کورٹ میں منگل کے روز زیرزمین پانی کے استعمال سے متعلق سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ منرل واٹر کمپنیاں جو بوتلیں استعمال کر رہی ہیں وہ خوراک کے طے کردہ اصولوں کے مطابق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ منرل واٹر کمپنیاں مفت پانی حاصل کرتی ہیں اور دس لاکھ سے زائد سالانہ منافع کما رہی ہیں، زیر زمین پانی عوامی ملکیت ہے اوریہ کمپنیاں اربوں روپے کھا گئی ہیں۔سپریم کورٹ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ منرل واٹر کمپنیاں جو پانی گرائونڈ پر پھینکتی ہیں وہ زہر ہوتا ہے، منرل واٹر کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے، کیا کوئی شعور رکھنے والا 54 روپے کی بوتل لے کر اپنی صحت خراب کرنا چاہے گا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ دھوپ میں رہنے کے باعث پلاسٹک کی بوتل سے خرابی ہوتی ہے، میں قوم سے کہوں گا بوتل کا پانی نہ پیئیں میں نے بھی پینا بند کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں نیسلے کمپنی کا پورا پلانٹ ہی معیاری نہیں تھا۔ وہاں ایک گھنٹے میں 20 ہزار ٹن پانی نکالا جا رہا ہے، ہمارے ماہر نے کہا نام نہاد نیسلے کے بجائے دریا کا پانی پینا پسند ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پانی بیچنے والے بڑے بڑے لوگوں سے جا کر کہ رہے ہیں 10 پیسے لے لیں، کیوں 10پیسے لیں؟ کیا پاکستان لوٹ کا مال ہے۔سپریم کورٹ کے سربراہ نے کہا کہ پانی کی صنعت والے بڑے بڑے لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں، جو مقدمات ہم سن رہے ہیں انہیں منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔چیف جسٹس نے منرل واٹرکمپنیوں کے مالکان کو 13 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔