چین سے تجارتی عدم توازن ختم کرنے کی کوشش کریں گے،اسد عمر

اسلام آباد(اے ٹی ایم نیوز آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کو ختم کرنے کا عزم دہراتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو 35 ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہے اور ہمیں آئی ایم ایف کے اس پیکیج کو آخری پیکیج بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔
قومی اسمبلی میں سعودی عرب سے ملنے والے پیکج کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق اسپیکر ایاز صادق کے سوال پر ایوان کو تفصیلی طور پر آگاہ کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کو 35ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہے اور بجٹ خسارے کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی۔
اسد عمر نے کہا کہ ڈالر کی طلب میں اضافہ اور رسد میں کمی کے باعث روپے کی قدر میں کمی ہوئی جبکہ گزشتہ حکومتوں میں 1200ارب کے نوٹ چھاپے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ معیشت کو سہارے کی ضرورت ہے، بجٹ خسارہ 900 ارب روپے سے بھی بڑھ گیا اور خسارے کی وجہ سے بیرونی قرضے لینے پڑے۔
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حلف اٹھانے کے ایک ہفتہ یا دس دن بعد آئی ایم ایف کے سربراہ کو فون کر کے مشن بھیجنے کی استدعا کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو آئی ایم ایف کا وفد بات چیت کے لیے پاکستان آیا اور چاہتے ہیں کہ آئندہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے اوریہ ہمارا آخری آئی ایم ایف پروگرام ہونا چاہیے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ساتھ ہم نے دوست ممالک سے بھی بات چیت کی اور سعودی عرب ہمیں 3 ارب ڈالر کا تیل فراہم کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان معاشی استحکام کے لیے دوست ممالک سے مدد لے رہا ہے اور آئی ایم ایف پر100 فیصد انحصار نہیں کرنا چاہتے، مارکیٹ میں اب ٹھہراؤ آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کی وجہ سے اخراجات میں اضافہ ہوا، معیشت کو سہارا دینے کے لیے بیل آؤٹ پیکیج کی ضرورت ہے۔
اسٹاک مارکیٹ کی بہتری سے آگاہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پچھلے 10 سے 12 دنوں میں 5 ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔
حکومتی اقدامات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم نے 95 فیصد چھوٹے کاروبای طبقے پر بجلی کی قیمت نہیں بڑھنے دی اوربرآمدات کے شعبے کے لئے بجلی کی قیمت کم کردی ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو ہمیں اگلے فیز پر لے کر جانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ہدف پاکستان کے تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے جب تک ٹھوس اقدامات نہیں کرتے مسائل حل نہیں ہوں گے اس لیے تمام جماعتوں سےامید کرتا ہوں کہ وہ معیشت پر بحث کے دوران مثبت تجاویز دیں گی۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان، چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔