سابق خاتون وفاقی وزیر کا 625 ایکڑ سرکاری زمین پر قبضے کا انکشاف، حکومت تاحال کاروائی نہ کر سکی!

فائل فوٹو

جھنگ (اے ٹی ایم نیوز آن لائن) پنجاب حکومت نے سابق وفاقی وزیر سیدہ عابدہ حسین کے قبضہ سے 625 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت پنجاب نے سرکاری زمین واپس لینے کیلئے سخت آپریشن کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لئے پولیس کی بھاری نفری تیار کرلی گئی ہے۔سیدہ عابدہ حسین نے 625 ایکڑ سرکاری زمین پر قبضہ کر کے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے۔ شہبازشریف حکومت نے بھی یہ سرکاری زمین واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن سیاسی مفادات کے باعث اس فیصلے پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔
تفصیلات کے مطابق جھنگ کی مشہور سیاستدان، سابق وفاقی وزیر اور امریکا میں پاکستان کی سابق سفیر سیدہ عابدہ حسین سے سرکار کی 625 ایکڑ سے زائد زرعی نہری زمین واپس لینے کے لئے حکومت پنجاب نے گرینڈ آپریشن کا فیصلہ کیا ہے۔ عابدہ حسین نے سیاسی اختیارات استعمال میں لاتے ہوئے یہ زمین چند سو روپے کے عوض حکومت سے لیز پر حاصل کر رکھی ہے تاہم اب یہ زمین انہوں نے ٹھیکہ پر 50 ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے دے رکھی ہے جس سے حکومت کو سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
ڈپٹی کمشنر جھنگ نے لیز ختم کرانے کیلئے عدالت میں مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔ اب سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں حکومت پنجاب نے یہ نہری زمین واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے دوسری طرف عابدہ حسین کے خاوند سید فخرامام پی ٹی آئی میں شامل ہیں اور ممبر قومی اسمبلی بھی ہیں۔ تاہم وزیراعظم عمران خان نے سیدہ عابدہ حسین سے اربوں مالیت کی زمین واگزار کرانے کا گرین سگنل دے دیا ہے اور جھنگ پولیس جلد آپریشن کرنے والی ہے۔ اس خبر کی تصدیق کے لئے ڈپٹی کمشنر جھنگ سے رابطہ کیا گیا لیکن ان کی طرف سے کوئی وضاحت نہیں مل سکی۔