بزدار قبیلے کے 2 نوجوانوں پر بھینس چوری کا الزام لیکن انہوں نے کیسے اپنے آپکو بےگناہ ثابت کیا

ڈیرہ غازی خان (اے ٹی ایم نیوز آن لائن) ”بھا پانی“ کی جاہلانہ رسم جدید دور میں بھی جاری، راڑاشم کے مقام پر بزدور قبیلے کے دو جوانوں کو چوری کے الزام میں پانی میں پھینک کر بے گناہی ثابت کرنے کا حکم۔ درجنوں افراد کی موجودگی پر مبینہ چوروں نے فرسودہ رسم پر عملدرآمد کرتے ہوئے ”بھاپانی“ کے ذریعے ”پت ساکھ“ دے کر اپنی بے گناہی ثابت کردی۔ وزیراعظم رسومات کے خاتمے کے لئے قانون بنائیں۔

روزنامہ خبریں کے مطابق صدیوں پرانی روایات اور پتھروں کے زمانے کی جاہلانہ رسومات کے مطابق قبائلی بلوچ کسی پر شک کی بنیاد پر اس سے صفائی اور بے گناہی ثابت کرنے کے لئے ”بھاپانی“ جیسی رسومات کے ذریعے ”پت ساکھ“ یعنی اعتبار لے کر تسلی کرتے ہوئے مدت ہاسے اس پر عملدرآمد بھی یقینی بناتے رہے۔ اس حوالے سے قتل، کالا کالی، چوری، ڈکیتی سمیت ہر قسم کے واقعہ بارے ملزم کو گنہگار ٹھہرانے یا بے گناہی ثابت کرنے کیلئے ان سے اسی طرح اعتبار لے کر اس سے برآمد ہونے والی نتیجے پرعملدرآمد کرنے کے بھی پابند ہوتے ہیں۔

اسی طرح صوبہ پنجاب کے سرحدی علاقہ ڈیرہ غازی خان کے بارڈر کے ساتھ صوبہ بلوچستان کی حدود بمقام راڑہ شم میں پٹھان قبیلے کی بھینسیں چوری ہوئیں۔ چوری شدہ مال واپس کرانے کیلئے علاقہ کے لوگوں نے ایک دوسرے سے رابطے جاری رکھے اور آخر کار 40 ہزار بھونگا وصول کرنے پر چوری کا مال برآمد ہوا جس پر مال واپس کرانے والے عمران خان اور ان کے ساتھی پر شک کیا گیا کہ وہ ہی چور ہیں جس پر ان سے اعتبار بذریعہ ”آگ پانی“ سے گزر کر بے گناہی ثابت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

دونوں مبینہ چوروں نے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے ہر قسم کے اعتبار دینے کی حامی بھرلی اور ”پت ساکھ“ بذریعہ پانی دے کر دونوں افراد بے گناہ ثابت ہوگئے۔ اعتبار دینے سے قبل مبینہ چور اللہ تعالیٰ کے واسطے دیتے رہے اور بے گناہ ثابت ہونے پر اللہ اکبر کے نعرے لگاتے رہے۔