بھارتی مواد بند، کیبل آپریٹرز اپنا قبلہ درست کرلیں، ورنہ سخت کا روائی ہوگی، چیئرمین پیمرا

فائل فوٹو

اسلام آباد (اے ٹی ایم نیوز آن لائن) چیئرمین پیمرا محمد سلیم بیگ کا کہنا ہے کہ بھارتی چینلز پر نشر ہونے والا موا د ہماری مذہبی و معاشرتی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔
انہوں نے کیبل آپریٹرز کو خبردار کیا کہ وہ اپنے کاروبار کو تمام غیر قانونی سرگرمیوں سے پاک کریں ورنہ سخت کارروائی کی جائے گی۔

چیئرمین پیمرا نے ریجنل آفس کراچی کا دورہ کیا جہاں ریجنل جنرل منیجر اشفاق جمانی نے کراچی میں غیر قانونی انڈین ڈی ٹی ایچ اور چینلز کے خلاف مہم سے آگاہ کیا۔
اس دوران ریجنل جنرل منیجر کراچی نے بتایا کہ پیمرا نے انٹیلی جنس، ایف آئی اے اور رینجرز کے تعاون سے صدر الیکٹرونکس مارکیٹ اور کورنگی کے گودام میں کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں غیرقانونی سامان قبضہ میں لے لیا۔

انہوں نے بتایا کہ برآمد کیے گئے سامان میں 7387ایل این بی ، 5840ڈش انٹینا و دیگر سامان اور 1853ریسیور شامل ہیں۔
چیئرمین پیمرا نے فیلڈ اسٹاف کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مہم کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے ملک سے اس ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جائے تاکہ پاکستانی انڈسٹری فروغ پاسکے۔

چیئرمین پیمرا کا کہنا تھا کہ غیر قانونی انڈین ڈی ٹی ایچ، سی لائن اور اینڈرائڈ کی خرید و فروخت اور ترسیل کو سختی سے روکا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی چینلز پر نشر ہونے والا مواد ہماری مذہبی، معاشرتی اور سماجی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔
چیئرمین پیمرا نے اپنے دورے میں کیبل آپریٹرز کے وفد سے بھی ملاقات کی ۔

انہوں نے کیبل آپریٹرز کو غیر قانونی ڈی ٹی ایچ اور انڈین چینلز سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات اور آپریشن سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اپنے کاروبار کو تمام غیر قانونی سرگرمیوں سے پاک کریں۔
چیئرمین پیمرا نے تنبیہ کی کہ پیمرا جلد آپریشن کا دائرہ کار بڑھا دے گی اور کسی بھی طور پر غیر قانونی عمل کی اجازت نہیں ہو گی۔

محمد سلیم بیگ نے کیبل آپریٹرز کے تمام جائز مطالبات کو جلد از جلد منظور کرنے اور انڈسٹری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ان کی مدد اور معاونت کرنے کا یقین بھی دلایا۔
اس دورے میں ان کے ساتھ ڈائریکٹر جنرل (آپریشنز) محمد فاروق، جنرل منیجر (آپریشنز) محمد طاہر، سیکریٹری اتھارٹی فخرالدین مغل اور دیگر پیمرا افسران بھی موجود تھے۔