کراچی کیلئے خوشخبری، وفاق نے 10 ارب روپے فراہم کر دیے

فائل فوٹو

کراچی(اے ٹی ایم نیوز آن لائن) وفاقی حکومت کی جانب سے شہر کی ترقی کے لیے 10 ارب روپے وصول ہو چکے جن سے کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع ہوچکا۔
میئر کراچی وسیم اختر نے پیر کی شام سٹی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہریوں کو خوشخبری دی کہ وفاقی حکومت کی جانب سے شہر کی ترقی کے لیے 10ارب روپے وصول ہو چکے جن سے ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع ہوچکا اس میں کونسل کے تمام ممبران کی محنت شامل ہے جن میں سخی حسن چورنگی، فائیواسٹار چورنگی اور کے ڈی اے چورنگی پر فلائی اوورز کی تعمیر سمیت منگھوپیر اور نشتر روڈ جبکہ فائر بریگیڈ کے لیے 2 ارب روپے کی لاگت سے انتہائی ضروری سامان حاصل کیا جا رہا ہے۔

وسیم اختر نے کہا کہ میں ذاتی طور پر وزیراعظم عمران خان کا مشکور ہوں کہ انھوں نے کراچی کے لیے اس رقم کو جاری کرانے میں جو ن لیگ کی حکومت نے منظوری دی تھی اسے ریلیز کرانے میں ہماری مدد کی اور ساتھ ہی ساتھ میری درخواست پر اپنی حکومت کی جانب سے بھی کراچی کے لیے مزید ترقیاتی پیکیج دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ یہ منصوبے مارچ 2019 میں مکمل ہوجائیں گے، کراچی کے لیے اس ترقیاتی پیکیج کا کریڈٹ پورے سٹی کونسل کے ایوان کو جاتا ہے کہ انھوں نے میرے ہاتھ مضبوط کیے اور آج کراچی پر یہ رقم لگ رہی ہے، اس موقع پر میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن بھی موجود تھے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میئرکراچی نے مزید کہا کہ مجھ سے یہ توقعات لگائی جاتی ہیںکہ میں کراچی کے لیے بڑے بڑے منصوبوں کا آغاز کروں مگر یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ مجھے 2کروڑ سے اوپر کوئی بھی کام خود کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
اجلاس میں مجموعی طور پر 12 قراردادیں منظور کی گئیں جن میں اتفاق رائے سے9 اور کثرت رائے سے 3 قراردادیں منظور ہوئیں ، اتفاق رائے سے منظور ہونے والی ایک قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان کوارٹرز کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دیے جائیں اور پاکستان کوارٹرز کے رہائشی افراد کو بے گھر نہ کیا جائے، اجلاس میں پاکستان کوارٹرز کے مکینوں پر بدترین ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت بھی کی گئی۔
اتفاق رائے سے منظور ہونے والی ایک اور قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کراچی کے عوام کو جیلوں میں نہ ڈالا جائے، قانون کا احترام ہر شہری پر فرض ہے اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کا چالان تو کیا جاسکتاہے مگر لوگوں کو جیل میں ڈالنا کراچی کے عوام پر ظلم ہے جس کی آج کا اجلاس شدید مذمت کرتا ہے۔
اتفاق رائے سے منظور ہونے والی ایک اور قرارداد میں حکومت سندھ سے مطالبہ کیا گیاکہ ایندھن تقسیم کرنے والی ایجنسیوں اور پٹرول پمپ مالکان کو پابند کیا جائے کہ وہ کسی بھی بغیر ہیلمٹ والے موٹر سائیکل سواروں کو پٹرول فراہم نہ کریں۔
ایک اور قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ کے ایم سی میں ریزوسیٹس پر منتخب ہونے والے لیبر، یوتھ، خواتین کونسلرزکوتنخواہ (اعزازیہ ) کی رقم فراہم کی جائے، قراردادوں میں بدھن گوٹھ نالہ پی اے ایف مسرور کالونی اور شیر محمد ولیج نالہ کی صفائی ، شپ اونرز کالج نارتھ ناظم آباد کی حالت زار کو بہتر بنانا، کچھ یوسیز کو کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے زیرانتظام لانا، فلور ملز مالکان اور گھی ملز مالکان کو اس بات کا پابند کیا جانا کہ آٹا اور گھی میں آئرن کی مقدار ملائیں ۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی کی حدود میں واقع 35 بڑے نالوں کی صفائی اور مرمت کے معاہدات کی توثیق سمیت کثرت رائے سے منظور ہونے والی قراردادوں میں عباسی شہید اسپتال میں نئے ٹیسٹوں کی فیس / چارجز کی منظوری، تجاوزات کے خاتمے کے لیے کرایے پر حاصل کی گئی مشینری کے اخراجات کے ادائیگی کی منظوری اور نو تعمیر شدہ لانڈھی اسپورٹس کمپلیکس کی فعالی اور مجوزہ فیس کے اجرا کی منظوری شامل تھیں۔ میئر کراچی نے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے اراکین کو حزب اقتدار کی سیٹوں کو جوائن کرنے پر مبارکباد پیش کی اور خوش آمدید کہا۔