’اعظم سواتی سے صلح کی ہے نہ کریں گے‘، متاثرہ خاندان کی صلح کی تردید

اسلام آباد(اے ٹی ایم نیوز آن لائن) وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی کے بیٹے اور مقامی افراد کے درمیان تنازع حل نہیں ہوسکا، متاثرہ خاندان نے صلح سے متعلق خبروں کی تردید کردی۔

اسلام آباد نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے متاثرہ خاندان نے کہا کہ ہم نے اعظم سواتی سے صلح کی ہے نہ کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سے لے کر نیچے تک سب اس واقعے میں ملوث ہیں، ہم آئی جی کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے دہشتگردی کا مقدمہ درج کرنے سے انکار کیا، چیف جسٹس ثاقب نثار کا شکریہ کہ انہوں نے نوٹس لیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے خاندان کے 5 افراد اڈیالہ جیل میں بند ہیں، ہم بہت جلد اعظم سواتی کے گھر کے باہر دھرنا دیں گے۔
متاثرہ خاندان نے واقعے سے متعلق بتایا کہ اعظم سواتی نے ہماری گائے کو بند کردیا تھا، جب ہم اسے واپس لے کر آئے تو اُن کے اسلحہ بردار ملازمین آ گئے اور ہمیں مارا پیٹا، ان لوگوں نے پولیس کو بھی بلایا اور ہماری خواتین سمیت 5 افراد کو تھانے لے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اعظم سواتی کے صاحبزادے عثمان سواتی نے ہمیں دھمکی دی تھی کہ تم لوگ مجھ سے ٹکر نہیں لے سکتے۔
متاثرہ خاندان نے کہا کہ عمران خان تو کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور کی طرح انصاف کریں گے، اُن سے مطالبہ ہے کہ اعظم خان کی رکنیت معطل کریں۔
ہم حکومت کو 3 دن کا وقت دیتے ہیں کہ اعظم سواتی سے استعفیٰ لیں بصورت دیگر اپنا لائحہ عمل طے کریں گے۔
قبل ازیں میڈیا پر یہ خبریں آئی تھیں کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے عثمان سواتی اور متاثرہ خاندان کے درمیان صلح نامے کے بعد ملزمان کی ضمانت منظور کرلی۔

گرفتار ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ سلمان بدر نے کی تھی۔ عدالت نے ملزمان کی دس، دس ہزار روپے مچلکوں کے عوض درخواست ضمانت منظور کی۔
ملزمان میں احسان اللہ، ضیا الدین، صلاح الدین اور 2 خواتین شامل ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز اعظم سواتی کے بیٹے عثمان سواتی کی جانب سے اسلام آباد کے تھانہ شہزاد ٹاؤن میں مقدمہ درج کرانے کے بعد پولیس نے کچھ لوگوں کو گرفتار کیا تھا، ان گرفتار افراد میں دو خواتین بھی شامل تھیں۔
عثمان سواتی نے گرفتار افراد کے خلاف درخواست میں کہا تھا کہ ان لوگوں کے مویشیوں نے ان کی اراضی کو نقصان پہنچایا تھا، جس پر ان کے محافظوں اور ان افراد کے درمیان جھگڑا ہوا۔
اعظم سواتی کے بیٹے کے مطابق ملزمان نے محافظوں پر تشدد کیا اور ان سے اسلحہ چھین لیا تھا

واضح رہے کہ اس معاملے پر آئی جی اسلام آباد کا بھی مبینہ طور پر تبادلہ کیا گیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے گزشتہ روز 29 اکتوبر کو نوٹس لیتے ہوئے آئی جی کے تبادلے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا تھا۔