جرمنی، نرس کا 2 اسپتالوں میں 100 سے زائد مریضوں کے قتل کا اعتراف

جرمنی (اے ٹی ایم نیوز آن لائن) جرمنی میں ایک مرد نرس نے ملک کے 2 مختلف ہسپتالوں میں 100 سے زائد مریضوں کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔
انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق 41 سالہ نیلس ہویگیل پر الزام ہے کہ وہ ساتھیوں کو متاثر کرنے کے لیے مریضوں کو جان بوجھ کر ضرورت سے زیادہ ادویات کا استعمال کراتے تھے تاکہ مریض کی صحت بحال کی جاسکے۔

ملزم نے ٹرائل کے پہلے دن عدالت میں اعتراف کیا کہ ان پر لگائے جانے والے الزامات درست ہیں۔
ملزم پر 1999 سے 2002 کے دوران جرمنی کے شمال مغربی شہر اولدنبورگ کے ایک ہسپتال میں متعدد مریضوں جبکہ 2003 سے 2005 کے دوران ایک اور ہسپتال میں متعدد مریضوں کے قتل کا الزام ہے۔

خیال رہے کہ 2015 میں 2 مریضوں کے اقدام قتل کے جرم میں انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
ٹرائل کے دوران ملزم کا کہنا تھا انہوں نے جان بوجھ کر مریضوں کو ہارٹ اٹیک کی حالت تک پہنچایا کیونکہ وہ ان کی بحالی کی حالت کا لطف اٹھانا چاہتے تھے۔

اس اعتراف جرم کے بعد حکام سیکڑوں ایسی ہلاکتوں کی تحقیقات کررہے ہیں جن کی لاشوں کو بغیر کسی پوسٹ مارٹم کے دفنا دیا گیا تھا۔
ملزم کے خلاف اولدنبورگ میں 36 مریضوں کی ہلاکت جبکہ دیلمین ہورسٹ کے ہسپتال میں 64 مریضوں کے قتل میں نامزد کیا گیا، ان کا شکار مریضوں کی عمریں 34 سال اور 96 سال کے درمیان تھیں۔

یاد رہے کہ یہ کیس جرمن حکام کے لیے انتہائی حساس ہے کیونکہ پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم کو ان کے اقدامات سے روکنے کا موقع ضائع ہوچکا ہے جیسا کہ صحت کے شعبے سے وابستہ حکام اس حوالے سے اپنی تشویش کو اٹھانے سے تذبذب کا شکار رہے تھے۔
منگل کے روز ملزم کے خلاف اولدنبورگ کی مقامی عدالت میں ہونے والے ٹرائل کا آغاز مقتول کے لیے ایک منٹ کی خاموشی کے بعد ہوا۔
اس موقع پر جج سیبستین بویہرمان کا کہنا تھا کہ ‘مقتولین کے اہل خانہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی یاداشت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے’۔

واضح رہے کہ جرمنی کے عدالتی نظام میں متواتر سزاؤں کا طریقہ کار موجود نہیں لیکن ملزم کی جانب سے حالیہ اعتراف ان کے پیرول کو متاثر کرسکتا ہے۔
عام طور پر عمر قید کی سزا کاٹنے والوں کو 15 سال کی سزا مکمل کرنے کے بعد پیرول کے لیے تصور کی جاسکتا ہے۔