آئی جی اسلام آباد اور اعظم سواتی کے درمیان رابطے کا انکشاف

فائل فوٹو

اسلام آباد (اے ٹی ایم نیوز آن لائن) آئی جی اسلام آباد جان محمد کی جانب سے وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی سے دو بار بات کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

وفاقی وزیر اعظم سواتی کی جانب سے آئی جی اسلام آباد جان محمد سے ٹیلی فون نہ اٹھانے کا معاملہ نیا موڑ اختیار کر گیا ہے۔
اعظم سواتی اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ آئی جی اسلام آباد جان محمد نے وزیر کا فون سننے سے انکار کر دیا تھا۔
تاہم اب وفاقی وزیر اعظم سواتی اور آئی جی اسلام آباد جان محمد کے درمیان دو مرتبہ ٹیلی فون پر رابطے کا انکشاف ہوا ہے۔

آئی جی اسلام آباد جان محمد کے قریبی ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی حکومت کا ٹیلی فون نہ سننے کا مؤقف بالکل غلط ہے کیونکہ اعظم سواتی اور جان محمد کے درمیان دو مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ ہوا تھا۔
ذرائع کے مطابق اعظم سواتی اور آئی جی اسلام آباد جان محمد کے درمیان جمعرات اور جمعے کو دو بار ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر ایس ایس پی اسلام آباد نے اعظم سواتی سے ان کے گھر پر جا کر ملاقات بھی کی۔
ایس ایس پی نے وفاقی وزیر سے ملاقات کر کے اُن کے تحفظات بھی سنے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ اعظم سواتی کی طرف سے یہ پیش کش کی گئی تھی کہ اگر متاثرہ خاندان خاموش رہے تو وہ ان کے خلاف دائر مقدمہ واپس لے لیں گے۔

خیال رہے کہ دو روز قبل وفاقی وزیر اعظم سواتی کے فام ہاؤس کے ملازمین اور ایک غریب خاندان کے افراد کے درمیان گائے کے فام ہاؤس میں گھسنے کے تنازع پر جھگڑا ہوا تھا۔

گزشتہ روز جیو کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیراعظم سواتی کا کہنا تھا کہ آئی جی اسلام آباد کے خلاف پہلے سے کافی شکایات تھیں، جمعرات کو قبائلی افراد کے جانور میرے فارم ہاوس پر آئے تو ان لوگوں نے میرے ملازمین کو دھمکیاں دیں اور کلہاڑیوں سے ان پر حملہ بھی کیا۔

وفاقی وزیر اعظم سواتی نے اس معاملے کی شکایت وزیراعظم عمران خان سے کی اور پھر ان کی زبانی ہدایت پر آئی جی اسلام آباد جان محمد کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اٹارنی جنرل اور چیف سیکرٹری کو طلب کیا اور آئی جی کی برطرفی کا فیصلہ معطل کر دیا تھا۔