آئی جی اسلام آباد کا تبادلہ، حکومت کا اپنا مؤقف سپریم کورٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ

فائل فوٹو

اسلام آباد (اے ٹی ایم نیوز آن لائن) وفاقی حکومت نے آئی جی اسلام آباد کے تبالے کے معاملے پر کھل کر اپنا موقف سپریم کورٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

آئی جی اسلام آباد کا تبادلہ خلاف قانون نہیں، یہ بات عدالت کے روبرو کیسے کی جائے؟ سپریم کورٹ میں حکومت کیا موقف اختیار کرے؟ وفاقی حکومت نے سوچ بچار اور لائحہ عمل کی تیاری تیز کردی ہے۔

اس حوالے سے اٹارنی جنرل آفس میں وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی،وفاقی وزیر اعظم سواتی،وفاقی سیکریٹری داخلہ اعظم سلیمان اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ اعجاز منیرنے 2 گھنٹے طویل مشاورت کی۔

آئی جی اسلام آباد کے تبادلے پر چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیا، عدالت میں سیکریٹری داخلہ اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کی سخت باز پرس کی اور وزیراعظم کے مبینہ زبانی حکم پر کیا گیا تبادلہ معطل کیا۔

حکومت نے عدالت میں حکومتی موقف کے حوالے سے تیاری کی ہے،اس معاملے کے تمام اہم کرداروں نے سرجوڑ لیے اور 2 گھنٹے طویل مشاورت کی۔

ملاقات کے بعد وزراء باہر آئے تو میڈیا نے سوالات کی بوچھاڑ کر دی، وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی جواب دینے کے بجائے دعائیں دیتے ہوئے چل دیے، تاہم اعظم سواتی نے میڈیا کا سامنا کیا۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ اٹارنی جنرل آفس میں ہونے والی مشاورت میں اتفاق کیا گیا ہے کہ حکومت آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کے معاملے پر اسٹینڈ لے گی، حکومت سمجھتی ہے کہ تبادلہ درست ہے اور حکومت ایسا کرنے کی مجاز ہے۔