متحدہ عرب امارات، جاسوسی کے الزام میں 6 ماہ سے قید برطانوی محقق کی ضمانت ہو گئی

فائل فوٹو

لاہور (اے ٹی ایم نیوز آن لائن) متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں جاسوسی کے الزام میں 6 ماہ سے قید برطانوی محقق کو ضمانت پر رہا کردیا گیا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے دفتر خارجہ نے بتایا کہ میتھیو ہیجز کو ضمانت پر رہا کردیا گیا۔

31 سالہ میتھیو ہیجز درہم یونیورسٹی میں مڈل ایسٹرن اسٹڈیز کے پی ایچ ڈی کے طالب علم تھے اور 2011 میں عرب انقلاب کے بعد یو اے ای کی خارجہ اور سیکیورٹی پالیسی پر تحقیق کررہے تھے۔
انہیں 5 مئی کو دبئی ایئرپورٹ پر حراست میں لیا گیا تھا اور ان پر معلومات جمع کرکے اسے غیر ملکی ایجنسی (برطانوی حکومت) کے ساتھ شیئر کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
میتھیو ہیجز کی اہلیہ ڈینیل ٹیجاڈا کا کہنا تھا کہ ’میں اس اطلاع پر زیادہ پُرجوش نہیں ہوسکتی کیونکہ میتھیو ہیجز ابھی مکمل طور پر آزاد نہیں‘۔

چند روز قبل یو اے ای کے اٹارنی جنرل حمد الشمسی نے بتایا تھا کہ پبلک پروسیکیوشن کی جانب سے تحقیقات کی بنیاد پر شواہد کی روشنی میں میتھیو ہیجز پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ میتھیو ہیجز محقق کا روپ دھار کر مذموم سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے تھے جبکہ یہ الزامات ان پر الیکڑونک سامان سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر لگائے گئے۔

دوسری جانب برطانوی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس حوالے سے کہا تھا کہ ‘حکام متاثرہ اہل خانہ سے مسلسل رابطے میں ہیں اور ہر ممکن تعاون کررہے ہیں’۔
انہوں نے حکومتی پالیسی کے مطابق انٹیلی جنس معاملات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

قبل ازیں برطانونی سیکریٹری خارجہ جیرمی ہنٹ نے اکتوبر کے آغاز میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ‘انہیں میتھیو ہیجز کی قسمت کے بارے میں شدید تشویش ہے’۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘میں نے اماراتی وزیر خارجہ سے اس مسئلے پر 2 مرتبہ بات کی اور وہ ہمارے تحفظات سے متعلق آگاہ ہیں’۔
محقق کی اہلیہ نے میتھیو ہیجز کی گرفتاری سے متعلق کہا تھا کہ وہ اپنے شوہر سے ایک مرتبہ مل چکی ہیں تاہم متعدد مرتبہ فون پر بات کی لیکن ان کے خاوند نے ہمیشہ اپنے اوپر عائد الزام کو قطعی مسترد کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ محض تعلیمی نوعیت کی تحقیق کررہے تھے جس میں مواد کے حصول کے لیے انہیں ہمیشہ ‘اوپن سورس’ درکار ہوتی تھی۔
انہوں نے بتایا تھا کہ ان کے شوہر کوئی بھی خفیہ معلومات افشاں نہیں کررہے تھے اور وہ یو اے ای میں ایک عرصے سے رہائش پذیر تھے۔