جرمنی، 7 شامی پناہ گزینوں کی گرفتاری کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف مظاہرہ

جرمنی (اے ٹی ایم نیوز آن لائن) جرمنی میں 18 سالہ لڑکی کے ریپ کے الزام میں 7 شامی پناہ گزینوں کی گرفتاری کے خلاف 5 سو افراد نے مظاہرہ کیا جبکہ صورت حال اس وقت دلچسپ ہوگئی جب ان مظاہرین کے خلاف ایک ہزار 5 سو افراد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔

ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق نائٹ کلب کے باہر 18 سالہ لڑکی کا ریپ کیا گیا تھا اور اس الزام میں پناہ گزین گروہ کو 29 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔
واقعہ کے بعد جرمنی کی جنوب مغربی ریاست بادن-وورتمبرگ کے علاقے فری برک سے 7 شامی نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا جن کی عمریں 19 سے 29 برس کے درمیان تھیں، ان کے ساتھ 25 سالہ جرمن نوجوان کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

فری برک کے میئر مارٹن ہارن نے آلٹرنیٹوفار جرمنی (اے ایف ڈی) نامی تنظیم کے مظاہرین کو پُرامن رہنے اور تشدد سے گریز کرنے پر زور دیا تھا۔
فری برک کے میئر نے بتایا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ مظاہرہ پُرامن ہوگا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آئے گا‘۔
انہوں نے کہا کہ ’فری برک میں ایسے ہولناک جرائم اور مجرمان کے لیے کوئی جگہ نہیں‘۔
جرمن حکام کا کہنا تھا کہ مشتبہ ملزمان میں سے ایک نے 14 اکتوبر کو لڑکی کو ایک ڈرنک خرید کر دی تھی جس کے بعد نائٹ کلب کے باہر جھاڑیوں میں اس کا ریپ کیا گیا تھا۔
ڈی ڈبلیو کے مطابق اے ایف ڈی کے خلاف تقریباً ایک ہزار 5 سو افراد نے مظاہرہ کیا اور اسے حالیہ حادثے کا فائدہ کرنے کا ذمہ دار ٹہھرایا۔

پولیس کی جانب سے تحقیقات کی جارہی ہیں کہ لڑکی کو دیے گئے مشروب میں کسی نامعلوم اجزا کا اضافہ کیا گیا تھا یا نہیں۔
پولیس ذرائع نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ دیگر مجرمان کی تلاش میں ہیں کیونکہ جائے حادثہ پر موجود ثبوت مزید افراد کی موجودگی کو ظاہر کرتے ہیں۔
مقامی اخبار بلڈ نے مرکزی ملزم کی شناخت 21 سالہ ماجد ایچ کے نام سے کی اور اس کے کچھ ساتھیوں کے نام بھی بتائے، جن میں 19 سالہ احمد ال ایچ ، 24 سالہ محمد ال ایچ اور 20 سالہ مہاند ایم شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ماجد ایچ کی سوشل میڈیا پروفائل پر موجود تصویر میں وہ ہاتھ میں مشین گن لیے کھڑے ہیں، یہ 2014 میں جرمنی میں آئے تھے، انہیں ایک اور یورپی ملک نے بھی مجرم قرار دیا تھا جہاں یہ پہلے پناہ گزین تھے۔
اخبار نے ملزم کے والد کا بیان بھی شائع کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’جب سے ہم نے ہجرت کی ہے ماجد کا رویہ جارحانہ ہوگیا تھا اور پولیس کے ساتھ مسائل چلتے رہتے ہیں‘۔
انہوں نے بتایا کہ ’اس پر پہلے بھی ایک فردِ جرم عائد کی جاچکی ہے کیونکہ ماجد نے کسی کو زخمی کیا تھا‘۔

مقامی میڈیا کے مطابق دیگر مشتبہ ملزمان میں سے اکثر سیاسی پناہ لینے والوں کے سینٹرز میں رہائش پذیر تھے اور دیگر جرائم میں بھی ملزمان نامزد تھے۔
اس ہولناک واقع سے جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ناقدین کو تقویت ملے گی کیونکہ ان کے اتحاد کو مہاجرین کے بحران کا سامنا ہے۔
انجیلا مرکل 2005 میں جرمن چانسلر بنیں تھیں اور 2021 میں چانسلر کی مدت مکمل ہونے پر عہدہ چھوڑ دیں گی۔
2015 میں انجیلا مرکل کے اتحاد کو 10 لاکھ پناہ گزینوں کو جرمنی میں قیام کی اجازت کے بعد دباؤ کا سامنا تھا۔