خاشقجی کو سعودی سفارتخانے میں کیسے مارا گیا؟ ترک پراسیکیوٹر کا بڑا دعویٰ

فوٹو: اے ایف پی

ترکی (اے ٹی ایم نیوز آن لائن) ترک پراسیکیوٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا منصوبہ پہلے ہی بنا لیا گیا تھا اور استنبول میں سعودی سفارتخانے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی ان کو گلا گھونٹ کر قتل کرنے کے بعد لاش ٹھکانے لگا دی گئی۔

استنبول کے چیف پراسیکیوٹر عرفان فدان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ترکی جانب سے حقائق کو بے نقابل کرنے کی موثر کوششوں کے باوجود سعودی عرب کے چیف پراسیکیوٹر سے ملاقات کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہ نکل سکا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ترکی کے کسی آفیشل کی جانب سے اس بات کی باقاعدہ تصدیق کی گئی ہے کہ 2اکتوبر کو سعودی سفارتخانے میں داخل ہونے کے بعد جمال خاشقجی کا گلا گھونٹا گیا اور اس کے بعد ان کے سر کو دھڑ سے الگ کردیا گیا۔

سعودی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور پبلک پراسیکیوٹر سعود ال مجیب نے گزشتہ روز ترک پراسیکیوٹر عرفان فدان کے ساتھ 45 منٹ طویل ملاقات کی لیکن ابتدائی طور پر اس کی کوئی معلومات میڈیا سے شیئر نہیں کی گئی تھیں۔

خیال رہے کہ سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی پالیسیوں کے سخت ناقد تصور کیے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک برس سے امریکا میں مقیم تھے تاہم 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں کی زینت بنے جب میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے۔

سعودی صحافی اپنی طلاق کی دستاویزات کو حتمی شکل دینے کے لیے سعودی سفارتخانے گئے لیکن وہاں سے واپس نہیں آئے جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔

سعودی عرب نے ابتدائی طور پر ان خبروں کی تردید کی لیکن پھر عالمی سطح پر دباؤ بڑھنے پر قتل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ 59 سالہ صحافی جمال خاشقجی سفارتخانے میں ہونے والے جھگڑے کے دوران مارے گئے۔

قتل کے بعد ترکی نے خاشقجی کے قتل کو سوچا سمجھا منصوبہ قرار دیتے ہوئے سعودی عرب سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ قتل میں ملوث 18 سعودی باشندوں کو ٹرائل کے لیے ترکی کے سپرد کرے۔

تاہم سعودی عرب کے وزیر خارجہ عدل ال زبیر نے ترکی کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جن افراد کو قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، وہ سعودی شہری ہیں، ان سے تفتیش سعودی عرب میں ہی ہوگی اور سزا بھی وہیں دی جائے گی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قاتلوں کی گرفتاری کے باوجود ابھی تک مقتول صحافی کی لاش کے بارے میں کسی قسم کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سعودی عرب سے مستقل لاش کے بارے میں بتانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس قتل کے بارے میں ہمارے پاس منظر عام پر لانے کے لیے مزید کئی ثبوت ہیں لیکن سعودی عرب کو جمال خاشقجی کی لاش دکھانا ہو گی۔