ہیپی برتھ ڈے علامہ صاحب

یاسرپیرزادہ
لاہور کا بھاٹی گیٹ اسی طرح مشہور ہے جیسے کراچی کا لالو کھیت، پنڈی کا راجہ بازار اور پشاور کا قصہ خوانی بازار۔ اگر آپ گورنمنٹ کالج، لاہور سے داتا دربار کی طرف آئیں تو دائیں ہاتھ کو سرکلر روڈ پر مڑنے سے پہلے ہی ذرا سا بائیں طرف بھاٹی گیٹ ہے، بجلی کی تاروں سے اٹا اور کاغذی اشتہارات میں چُھپا ہوا۔ اس قسم کی جگہوں پر میں چھٹی کے دن جاتا ہوں جب رش نسبتاً کم ہوتا ہے، پھر بھی اگر آپ گاڑی پر ہیں تو دروازے میں داخل ہونے سے پہلے احتیاطاً اپنی کار کا بیمہ کروا لیں، اگر موٹر سائیکل پر ہیں تو موت کے کنوئیں میں چلا کر پریکٹس کر لیں اور اگر پیدل ہیں تو اللہ کا نام لے کر چل پڑیں، تقریباً پانچ منٹ کی واک کے بعد آپ بازار حکیماں میں نکل آئیں گے۔ یہاں دائیں طرف لاہور کا تاریخی فقیر خانہ میوزیم ہے، یہ میوزیم ایک قدیم حویلی میں واقع ہے جو لاہور کے فقیر خاندان کی ملکیت ہے، یہ خاندان 1730سے لاہور میں آباد ہے اور یہ عجائب گھر 1904 سے عوام کے لئے کھلا ہے، یہ پاکستان کے چند بڑے نجی عجائب گھروں میں سے ایک ہے۔ جس حویلی میں یہ قائم ہے اس کی نچلی منزل میں بیٹھک ہے جہاں علامہ اقبال اکثر اپنی محفل جمایا کرتے تھے، دوستوں کے ساتھ گپ شپ کیا کرتے تھے اور شعر و ادب کی مجلسیں یہاں برپا ہوتی تھیں۔ فقیر خانہ میوزیم سے ذرا سا آگے جائیں تو اسی بازار میں بائیں جانب سرخ اینٹوں سے تعمیر شدہ ایک مکان ہے، کہا جاتا ہے کہ یہ فقیر نجم الدین کا مکان تھا، اب اس کے باہر ایک کتبہ نصب ہے جس پر لکھا ہے کہ اقبال نے اپنی شاعری کا آغاز اس تھڑے سے کیا، انہیں شہرت یہیں بازار حکیماں سے ملی جب 1896میں انہوں نے اپنی شاعری اس وقت کے ایک بزرگ شاعر ارشد گرگانی کو سنائی جنہوں نے اسے بہت سراہا۔ اس مکان سے اگر آپ واپس بھاٹی گیٹ کی طرف منہ موڑ لیں تو قریباً چار منٹ کی واک پر محلہ جلوٹیاں آ جائے گا، اپنے گورنمنٹ کالج کے قیام کے دوران اقبال نے اسی علاقے میں مکان لیا اور چند ماہ بعد تبدیل کرکے قریب ہی مکان نمبر 597 بی میں منتقل ہو گئے جہاں پہلے مولوی حاکم علی کی رہائش تھی۔ افسوس کہ یہ دونوں مکانات تلاش کرنا (کم از کم میرے لئے) اب ممکن نہیں کہ ان کی کوئی نشانی یہاں نظر نہیں آتی۔

علامہ اقبال نے 1930کے چند برس میکلوڈ روڈ، لاہور کے ایک مکان میں بھی گزارے، یہ جگہ مشہور زمانہ لکشمی چوک سے چند قدم کے فاصلے پر ہے، جو دوست کراچی سے لاہور آتے ہیں انہیں اور کسی جگہ کا نام یاد ہو نہ ہو لکشمی چوک ضرور یاد ہوتا ہے، اب اس کا نام مولانا ظفر علی خان چوک رکھ دیا گیا ہے اور لکشمی بلڈنگ، جو کبھی یہاں ہوا کرتی تھی، کے سامنے کے حصے کو رنگ روغن کر کے کھڑا کر دیا گیا جیسے کسی فلم کا سیٹ لگایا گیا ہو۔ اب بندہ کس کس بات کا رونا روئے۔ بہرکیف، گوالمنڈی سے لکشمی چوک کی طرف آتے ہوئے اگر آپ بائیں ہاتھ کو مُڑ جائیں تو تاریخی رتن سینماکے کھنڈرات آ جائیں گے، یہ وہی سینما ہے جو لاہور کی تفریحی سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتا تھا، 1952میں یہاں دلیپ کمار کی فلم آن لگی تھی، خود میں نے کالج کے زمانے میں یہاں بیسیوں فلمیں دیکھی تھیں، اس سنیما کے ساتھ ہی ایک گلی ہے جس کے داخلے پر ایک ادھ موا سا لوہے کا دروازہ ہے، اسے کھول کر آپ اندر جائیں تو سامنے آپ کو ایک بوسیدہ عمارت نظر آئے گی جس پر اقبال اکادمی پاکستان کا بورڈ لگا ہے، یہ علامہ اقبال کا گھر تھا۔ اقبال اپنی انارکلی والی رہائش گاہ سے یہاں منتقل ہوئے تھے، یہ کوٹھی انہیں ایک سو ستّر روپے ماہوار کرائے پر ملی جو ایک ہندو بیوہ اور اس کے دو بچوں کی ملکیت تھی، اس زمانے میں اس گھر کے آگے ایک میدان بھی ہوا کرتا تھا اب یہاں چاروں طرف مکانات بن چکے ہیں۔ چھٹی والے دن جب میں یہاں پہنچا تو اس مکان کے باہر تالا پڑا تھا، کہیں کوئی نشانی نہیں تھی جس سے یہ معلوم ہو سکتا کہ کبھی یہ عمارت علامہ اقبال کی رہائش گاہ رہی تھی، باہر شاہراہ پر کوئی بورڈ نہ اندر گلی میں کوئی پتہ، پورا محلہ کسی ایسے کھنڈر کا نقشہ پیش کر رہا تھا جیسے یہاں تازہ تازہ گولہ باری ہوئی ہو۔ باہر سے عمارت جتنی دکھائی دی اس سے اندازہ ہوا کہ اندر سے بھی ایسی ہی ناگفتہ بہ حالت میں ہوگی، عمارت کا پلستر جابجا اکھڑا ہوا تھا اور لگتا تھا جیسے صدیوں سے اس کی مرمت اور دیکھ بھال پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا، کاغذوں میں بجٹ ہوتا ہو تو ہو۔ میرا مقصد اس بات کا ماتم کرنا نہیں کہ علامہ اقبال کی رہائش گاہیں کس قدر خستہ حالت میں ہیں کیونکہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں ہر دوسری شاہراہ، اسکول، کالج، ہوائی اڈہ اور رہائشی منصوبہ علامہ اقبال کے نام سے منسوب ہے سو اگر اقبال کے کرائے کے مکانات کی حالت بری ہے تو اسے بہتر بنایا جا سکتا ہے، تبرّیٰ کرنا فرض نہیں۔ کرنے کا کام صرف اتنا ہے کہ اقبال سے منسوب عمارتوں کو نہلا دھلا کر رنگ روغن کر دیا جائے اور ان تک پہنچنے کے راستے پر واضح نشانات آویزاں کر دیئے جائیں، ہو سکے تو ایک آدھ سوینئر شاپ بھی بنا دی جائے، علامہ کے 141ویں جنم دن کے لئے یہ ایک بہترین تحفہ ہوگا۔

علامہ اقبال نے بڑی بھرپور اور دلچسپ زندگی گزاری، دو شادیاں کیں، ایک آدھ معاشقہ کیا، آپ کی غیر مسلموں سے بھی دوستیاں تھیں اور قدامت پسند مسلمانوں سے بھی، پنڈت نہرو بھی آپ سے محبت کرتے تھے اور قائد اعظم بھی، ایک طرف آپ رومی کو اپنا روحانی مرشد مانتے تھے تو دوسری طرف مغربی فلسفیوں سے بھی حد درجہ متاثر تھے، آپ کیمبرج اور لنکنز ان سے پڑھے بھی تھے اور مغربی تہذیب کے سخت ترین نقاد بھی تھے، اسلام کے عاشق تھے اور ملّا کے دشمن، ملاحظہ ہو ’’دین ِکافر فکر و تدبیرِجہاد__ دین ملّا فی سبیل اللہ فساد‘‘ اقبال کی ذاتی زندگی کا اندازہ لگانا ہو تو اس خط سے لگایا جا سکتا ہے جو انہوں نے26اگست 1931کو اپنی بیوی کے نام لکھا اور اسے میاں امیر الدین کے حوالے کر دیا، یہ ایک طرح سے علامہ کی وصیت تھی، اس میں اقبال نے ایک ایک پیسے کا حساب دیا ہے اور بتایا ہے کہ کیسے اُن کی پس انداز کی ہوئی رقم اور جائیداد کی تقسیم کی جائے، جاوید اقبال کے نام نیشنل بنک، لاہور میں پندرہ ہزار اور منیرہ کے نام پانچ ہزار ہبہ کئے جبکہ دس ہزار روپے سردار بیگم کے نام کوآپریٹو بنک میں رکھے، جس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’(یہ رقم) میرے اور تمہارے نام سے جمع ہے مگر میرا نام محض اس لئے درج کیا گیا تھا کہ تمہارے لئے کوئی جائیداد خریدنے کی ضرورت پڑے تو بنک سے اس کے نکالنے میں آسانی ہو، حقیقت میں یہ روپیہ تمہارا ہے اور مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘ دو ہزار روپے انہوں نے اپنے منشی کے پاس چھوڑے جن سے انکم ٹیکس کی ادائیگی، گھر کے اخراجات اور نوکروں کی تنخواہیں ادا کی جانی تھیں اور پھر لکھتے ہیں ’’میں نے زبانی کہا تھا کہ تمہارا حق مہر میں نے پندرہ ہزار روپیہ مہینہ باندھ دیا ہے، وقت نکاح کوئی رقم مقرر نہ کی گئی تھی، لیکن اب میں اپنی مرضی سے تمہارا حق مہر مبلغ پندرہ ہزار مقرر کرتا ہوں۔۔۔۔شرعاً یہ روپیہ مجھ پر قرض ہے اور تم اس رقم کو میری ہر قسم کی جائیداد منقولہ یا غیر منقولہ سے وصول کر سکتی ہو۔۔۔۔‘‘بڑا آدمی صرف اپنے علمی قد کاٹھ میں ہی بڑا نہیں ہوتا بلکہ ذاتی معاملات میں بھی بڑا ہی ہوتا ہے۔ ہیپی برتھ ڈے علامہ صاحب!