پرائیویٹ میڈیکل کالج کے بیوپاری

عطاءالحق قاسمی
جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے،والا مصرعہ ان دنوں کاروبار پر صادق آتا ہے ، اب ہر چیز کاروبار بن گئی ہے، تعلیم ، سیاست، صحافت، مذہب، ان میں سے ہر چیز بازار میں ارزاں نرخوں پر دستیاب ہے ، ہم بچپن میں ایک شعر پڑھا کرتے تھے
کدھر کوجاتے ہو کدھر کا خیال ہے
بیمار دانتوں کا یہی اسپتال ہے
اور وہ ’’بیمار دانتوں کا اسپتال ، ایک ڈاکٹر‘‘ پر مشتمل ہوتا تھا جو سڑک کے کنارے پنجوں کے بل بیٹھا ہوتا تھا جو پلاس سے مریض کا دانت نکالتا تھا، اکثر اوقات درد والے دانت کی بجائےوہ صحیح دانت نکال دیتا تھا۔کئی دکانوں پر ایک موٹے تازے اور ایک ہڈیوں کے ڈھانچےایسے شخص کی تصویر بھی بنی ہوتی تھی۔ موٹے شخص کے نیچے لکھا ہوتا تھا ’’نقد کی حالت‘‘ اور کمزور شخص کے نیچے درج ہوتا تھا ’’ادھار کا انجام‘‘ میں نے گزشتہ دنوں ایک دکان پر یہ بھی لکھا دیکھا کہ ’’کشمیر کی آزادی تک ادھار بند ہے۔‘‘
مگر کالم کی ابتدا میں جن شعبوں کا میں نے ذکر کیا ہے ، وہاں ادھار کا کوئی تصور ہی نہیں۔ سب کام ’’نقد و نقد‘‘ ہوتے ہیں۔ ان دنوں باقی شعبوں کے علاوہ جو کاروبار لوٹ مار کی میراتھن ریس میں آگے ہی آگے نظر آتا ہے، وہ تعلیم کا کاروبار ہے۔ ٹاٹوںپر بیٹھ کر پڑھنے والے والدین بھی اپنے بچوں کے ’’بہتر مستقبل‘‘ کے لئے انہیں ان تعلیمی اداروں میں داخلہ دلوانے کے لئے مرے جاتے ہیں جہاں فیس لاکھوں میں لی جاتی ہے۔اور عملی زندگی میں وہ وہاں تک بھی نہیں پہنچ پاتے۔ ٹاٹوں پر بیٹھ کر پڑھنے والے آج جس مقام تک پہنچے ہیں ۔ یہ کالج اور یہ یونیورسٹیاں حکومت کی منظور شدہ ہوتی ہیں اور ان کی ڈگریاں اصلی سمجھی جاتی ہیں۔ میں سب تعلیمی اداروں کی بات نہیں کررہا، ان میں سے کچھ کا معیارتو اعلیٰ سطح کو چھوتا نظر آتا ہے لیکن بہت سی یونیورسٹیوں اور کالجوں کا معیار، معیار کی پہلی میم تک نہیں پہنچتا۔
مگر اس وقت میں خصوصی طور پر پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی بات کر رہا ہوں جن کے قیام کے لئے بظاہر بہت سخت شرائط ہوتی ہیں، جو عموماً پوری نہیں کی جاتیں مگر یہاں سے ہزاروں کی تعداد میں عطائی قسم کے ڈاکٹرز کی پروڈکشن جاری ہے۔مثلاًان کالجوں میں ایک سو کے قریب مختلف امراض کے مریضوں کا داخلہ ضروری ہے تاکہ پروفیسر حضرات طالب علموں کو ان کے علاج کی تربیت دے سکیں، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ معائنہ ٹیم آ رہی ہے تو وہ اردگرد کی فیکٹریوں کے مزدوروں کو ان سینٹروں پر بطور مریض لٹا دیتے ہیں۔ آگے پیچھے چند ایک مریض نزلہ زکام اور بخار کے ہوتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ معائنہ اچانک کیا جائے۔ جہاں تک پروفیسروں کی تعیناتی کا تعلق ہے وہ فل ٹائم ہونا چاہئیں۔ ظاہر یہی کیا جاتا ہے ، مگر اکثر کالجوں میں وہ پارٹ ٹائم ہوتے ہیں ، ان میں سے بہت سے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں وہ مشینری بھی نہیں ہوتی، جو ناگزیر سمجھی جاتی ہے، مگر یہاں سے ہر سال ڈاکٹر کی ڈگری لئے انسانی جانوں سے کھیلنے والی مخلوق کی پروڈکشن جاری ہے۔ سب سے افسوسناک امر یہ ہے کہ ان کالجوں کے ممتحن بھی اس ادارے کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی مرضی کا رزلٹ تیار کرتے ہیں اور یوں عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ان کے کالج کا رزلٹ دوسروں سے کہیں بہتر ہے۔
میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہیں ڈاکٹروں کے پاس جانے کا شوق ہوتا ہے اور چھوٹی موٹی مختلف بیماریوں کے لئے جو نسخہ وہ لکھتے ہیں وہ مجھے ازبر ہے ، چنانچہ اب میں خود ڈاکٹر ہوں اور میرے گرد بھی مریضوں کا جھمگھٹالگا رہتا ہے ۔ بہت معذرت کے ساتھ ان ڈاکٹروں کا علم ساری عمر اتنا ہی رہتا ہے جتنا دور طالب علمی میں انہیں ’’دان‘‘ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہیں نئی میڈیکل ریسرچ پڑھنے کی تو فیق ہی نہیں ہوتی۔کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ اس قسم کے ڈاکٹروں کا دو چار سال بعد ایک بار پھر امتحان لیا جائے۔مجھے زیادہ دکھ اس لئے ہے کہ میں نے ڈاکٹر امیر الدین، جنرل محی الدین ، ڈاکٹر جاوید اکرم، ڈاکٹر اسد اسلم، ڈاکٹر اظہر حمید، ڈاکٹر عاطف ، ڈاکٹر آصف، اور ڈاکٹر سعید کھوکھر اور ان کے علاوہ بیسیوں نوجوان اور بزرگ ڈاکٹر دیکھتے ہیں جن پر ہم فخر کر سکتے ہیں ، مگر اب انسانی جانوں کا بچانے والا یہ پیشہ روبہ زوال ہے ۔میری تجویز یہ ہے کہ پرانے پرائیویٹ کالجوں کے معیار پر مسلسل نظر رکھی جائے۔اور انہیں سختی سے قواعد و ضوابط کا پابند بنایا جائے۔ ان کی فیسیں کم کی جائیں اور نئے کالجوں کی منظوری ایک طویل پراسیس کے بعد دی جائے۔ منسٹری آف ہیلتھ کے افسران، ایسے کاموں میں رکاوٹ ڈالنے کی بجائے آسانیاں پیدا کریں۔
اور سب سے اہم بات یہ کہ ان کالجوں کے انٹرنل ایگزامینرز کی بجائے ایکسٹرنل ایگزامینرز ہونا چاہئے اور اس حوالے سے کوئی دبائو دقبول نہ کیا جائے۔ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم ہیں جو بہت بڑے فزیشن ہی نہیں، انتہائی محنتی اور انتہائی ایماندار شخصیت ہونے کے علاوہ بے شمار انسانی خوبیوں کے مالک ہیں ان کے ساتھ ایک بہترین ٹیم بھی ہے ۔ میں نے اوپر جن مسائل کا ذکر کیا ہے ، تقریباً ان سب کا تعلق یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سے ہے اور یوں مجھے یقین ہے کہ حالات میں بہتری ضرور آئے گی اور اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس طرح کےکچھ کالجوں کے فارغ التحصیل ڈاکٹروں کی طرف سے کسی دیوار پر لکھا نظر آئے۔
کدھر کو جاتے ہو کدھر کا خیال ہے
بیمار’’ لوگوں‘‘ کا یہی اسپتال ہے