13 ارب سال پرانا ستارہ دریافت کرلیا گیا

کیلیفورنیا(اے ٹی ایم نیوز آن لائن) ہماری کائنات لامحدود حیرت انگیزیوں سے بھری ہوئی ہے اور اب ماہرین نے کائنات کے ایک گوشے میں قدیم ترین ستاروں میں سے ایک دریافت کیا ہے جو بگ بینگ کے عمل کے بعد کائنات کی پیدائش کے فوراً بعد وجود میں آیا تھا اور یہ ستارہ ساڑھے 13 ارب سال پرانا ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ یہ ستارہ ساڑھے 13 ارب سال قدیم ہے لیکن ہماری ملکی وے کہکشاں کے پڑوس میں موجود ہے اور اس خبرکا یہ پہلو سب سے حیرت انگیز ہے۔ فلکیات دانوں نے اسے 2MASS J18082002–5104378 B کا پیچیدہ نام دیا ہے اور شاید یہ اب تک ہماری معلومات کے مطابق کائنات کا سب سے پرانا ستارہ بھی ہوسکتا ہے۔

اس کا اہم ثبوت یہ ہے کہ ابتدائی کائنات میں دھاتیں موجود نہیں تھیں اور اس نودریافت ستارے میں ہماری اب تک کی معلومات کے مطابق سب سے کم دھاتیں ملی ہیں۔ کائناتی ارتقا کے تحت پہلی نسل کے ستاروں میں دھیرے دھیرے دھاتیں بننا شروع ہوئیں جو ان کے ہولناک اختتام پر پھٹ پڑنے سے پوری کائنات میں پھیلتی چلی گئیں۔
بگ بینگ کے بعد سے جو ستارے بنتے گئے ان کی نسلیں بھی وجود میں آتی گئیں مثلاً ہمارا سورج بگ بینگ سے کائنات کے آغاز کے بعد ایک لاکھویں نسل کا ستارہ ہے اور ہر نسل کے ستاروں میں دھاتوں کی تعداد درجہ بہ درجہ بڑھتی چلی گئی۔ اس ستارے میں دھاتوں کی مقدار بہت کم ہے یعنی ہماری زمین پر موجود دھاتوں کی مقدار کا صرف دس فیصد اس بڑے ستارے میں دیکھا گیا۔ اس مشاہدے سے ماہرین نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ہماری اپنی ملکی وے کہکشاں کی ستاروں کی طشتری (اسٹار ڈسک) ہمارے اندازوں سے بھی 8 سے 10 ارب سال مزید پرانی ہے۔

یہ ستارہ کہکشاں کے کنارے پر موجود ہے اور اس کی کمیت ہمارے سورج کے 10 فیصد حصے کے برابر ہے۔ اس کی دریافت سے ہمیں پتا چلا کہ کائنات کے ابتدائی ستارے ضروری نہیں کہ اتنے بھاری بھرکم اور بڑے تھے کہ ان کا تیزی سے خاتمہ ہوگیا بلکہ یہ ستارہ بہت کم مادے سے بنا ہے لیکن اس میں دھاتوں کی مقدار چند گرام تک ہی ہوگی!

ماہرین کا خیال ہے کہ اس ستارے کو دیکھ کر بہت حد تک ہمیں ابتدائی کائنات اور ستاروں کو جاننے میں بھرپور مدد ملے گی۔