جھوٹی گواہی پر سزائیں دینے والے ججز کا احتساب ہوگا، جسٹس کھوسہ

اسلام آباد(اے ٹی نیوز آن لائن) سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ اگر جج انصاف نہیں دے سکتا تو اسے منصف کی کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ پنجاب کی ماتحت عدلیہ تقریباً ہر مقدمے میں پھانسی کی سزا سناتی ہے، جھوٹی گواہی دینے والوں کو جیل بھیجیں گے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فوجداری نظام عدل میں اصلاحات کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہت جلد جھوٹے گواہ جیلوں میں ہوں گے، دو تین کو عمر قید کی سزا دی تو نظام درست ہو جائے گا، جھوٹی گواہی پر سزائیں دینے والے ججز کا بھی احتساب ہوگا۔

فوجداری مقدمات کی سماعت کے دوران جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا کہ اگر جج انصاف نہیں دے سکتا تو اسے منصف کی کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں، گواہ سچ نہیں بولتے، پنجاب کی ماتحت عدلیہ تقریباً ہر مقدمے میں پھانسی کی سزا سناتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 1985ء میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک انگریز جج نے پنجاب سے متعلق فیصلے میں لکھا تھا کہ دنیا کے ہر کونے میں مرنے والا شخص سچ بولتا ہے، پنجاب میں مرنے والا جھوٹ بول کر دو تین اور کو پھنسا جاتا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ماتحت عدلیہ کے جج صاحبان بغیر پڑھے فیصلے لکھتے ہیں، اگر ماتحت عدلیہ نے یہی کچھ کرنا ہے تو پھر انھیں بند کر دیں۔