آزاد کشمیر، استاد کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی طالبہ کی خودکشی کی کوشش

فائل فوٹو

کشمیر (اے ٹی ایم نیوز آن لائن) آزاد جموں و کشمیر میں استاد کے ہاتھوں مبینہ ریپ کا نشانہ بننے والی اسکول کی طالبہ نے خودکشی کرنے کے لیے چوہے مار زہر پی لیا۔
پولیس کے مطابق 15 سالہ لڑکی کی حالت خطرے سے باہر ہے تاہم مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا گیا۔
نکیال پولیس اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) نے ڈان کو بتایا کہ کوٹلی ضلع کے نکیال سب ڈویژن میں رہائش پذیر متاثرہ لڑکی کو 6 نومبر کی رات کو اس وقت ریپ کیا گیا جب اس کے والدین لاہور میں اپنے عزیز و اقارب کے پاس تھے۔
علاوہ ازیں ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ کہ لڑکی سرکاری اسکول میں آٹھویں کلاس کی طالبہ تھی اور مشتبہ شخص اسکول میں کانٹریکٹ پر ملازم تھا۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ والدین کی غیرموجودگی میں مشتبہ شخص لڑکی کو موٹرسائیکل پر بیٹھا کر اپنی دکان پر لے گیا جہاں اس نے لڑکی کا ریپ کیا اور منگل کی رات 2 بجے واپس گھر چھوڑ دیا۔

اس حوالے سے پولیس نے کہنا تھا کہ 25 سالہ مشتبہ شخص اکثر لڑکی کو ٹیوشن دینے آتا تھا۔

متاثرہ لڑکی کے والد نے پولیس کو بتایا کہ جب وہ اور ان کی اہلیہ بدھ کی شام کو گھر پہنچے اور بیٹی کو گھر موجود نہیں تھی۔

لڑکی والد نے بتایا کہ ان کی بیٹی بہت خوفزدہ اور ڈری ہوئی تھی اور معمولی ڈانٹ پر اس نے اپنے ساتھ ہونے والے واقعہ کا ذکر کیا۔

پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کے والد نے معاملہ پولیس میں لے جانے کا فیصلہ کیا۔

اس دوران لڑکی نے خوف میں آکر جمعرات کی صبح 8 بجے چوہے مار زہر پی لیا جسے فوراً نکیال کے تحصیل ہیڈکواٹر اسپتال منتقل کردیا گیا۔

ایس ایچ او فیصل نے بتایا کہ ابتدائی طبی رپورٹ میں ’لڑکی سے ریپ کی تصدیق ہوئی ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی بیان ریکارڈ کرتے وقت متاثرہ لڑکی کی حالات بہتر نہیں تھی۔

اس حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ مشتبہ شخص کو اس کے گھر سے گرفتار کرلیا گیا تاہم متاثرہ لڑکی کی طبیعت بحال ہونے کے بعد اُسے ڈی ایچ کیو اسپتال کوٹلی منتقل کردیا گیا۔