پاک چین دوستی اور خفت کی چاشنی

امتیازعالم
سی پیک منصوبوں پہ کیا دھول ہے جو نہیں اُڑائی گئی تھی۔ ایک باقاعدہ مہم چلائی گئی تھی کہ بڑے بڑے منصوبوں میں بڑی بڑی کک بیکس اور کمیشن شامل تھے جن میں مبینہ طور پر شریف حکومت اور چینی کمپنیاں شامل تھیں۔ اپنا کاروباری مفاد نہ حاصل کر پانے والے وزیرِ تجارت تو اسے پانچ سالوں کے لیے ملتوی کرنے پہ بھی مصر تھے۔ اوپر سے امریکہ اور آئی ایم ایف نے خوب شور مچایا کہ وہ کیوں پوشیدہ چینی قرض چکائیں، جبکہ یہ ہمارے قرضوں کا فقط 6 فیصد ہے اور ادائیگیاں 2022 سے شروع ہونی ہیں۔ روڈ اینڈ بیلٹ کا وژن صدر شی جن پنگ نے 2013 میں پیش کیا تھا اور چین کی اُبھرتی اور پھیلتی معاشی طاقت کو دیکھتے ہوئے صدر زرداری نے چین کے تقریباً دو درجن دورے کیے تھے اور گوادر پورٹ کا ٹھیکہ سنگاپور کی ایک فرم سے لے کر چین کو دینے کا معاہدہ کیا تھا۔ ایران پاکستان بھارت گیس پائپ لائن کے منصوبے کے افتتاح کے ساتھ ساتھ مال کے بدلے مال اور مقامی کرنسیوں میں تجارت کی یادداشتیں بھی اُنہی کے دور کی تخلیق تھیں۔ پھر جب نواز شریف وزیراعظم بنے تو اُنہیں علاقائی تجارت و پیوستگی (Connectivity) کا اپنا خواب صدر شی کے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے (RBI) میں بازیاب ہوتا دکھائی پڑا۔ چونکہ پاکستان کو اس وقت بجلی کے عظیم بحران کا سامنا تھا اور نواز شریف کا بڑی شاہراہوں، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی مواصلاتی ترقی کا ماڈل اُن کے من میں مچل رہا تھا، لہٰذا شریف حکومت بجلی اور بنیادی مواصلاتی ڈھانچوں کی تیز بارآوری کی جانب لپکی اور چینی مدد سے یہ کام بہت تیزی سے تکمیل کی جانب رواں ہو گئے۔ دس ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبوں کی تکمیل کوئی چھوٹا کام نہ تھا اور بڑے بڑے مواصلاتی منصوبے تیزی سے تعمیر ہونے لگے۔ اوّلین باریابی کے منصوبوں پہ تقریباً 26 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری ہوئی یا مکمل ہونے کو ہے۔ کُل 60 ارب ڈالرز کے منصوبے تھے، جس کے دوسرے مرحلے کو حتمی شکل دی جا رہی تھی کہ ’’تبدیلی‘‘ کی حکومت آ گئی۔ جسے سابقہ حکومت کی کامیابیوں سے چڑ تھی اور وہ کسی نہ کسی طرح اپنی طُرم خانی کا اعتراف چاہتی تھی جس کے باعث سی پیک کے مستقبل پہ سوالات اُٹھ کھڑے ہوئے۔ بھلا ہو آرمی چیف جنرل باجوہ کا کہ مالیاتی بحران کو بھانپتے ہوئے پہلے وہ سعودی عرب گئے اور پھر چین جا کر بدگمانیوں کی صفائی اور آگے بڑھنے کی یقین دہانی کرا پائے۔ جونہی مالیاتی بحران میں پاکستان کی نازک نیّا نے ہچکولے کھانے شروع کیے تو پھر قومی قناعت کے جذبے سرد پڑے اور غیرت طاقِ نسیاں ہو گئی۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ فقیر کو کہاں چناؤ کی توفیق کے مصداق کاسۂ گدائی ایسا پھیلا کہ پھیلتا ہی چلا گیا۔ اور لگا دھن برسنے۔ لیکن کوئی کیوں مفت کاتیل دے گا اور ڈالرز بھی۔ چھ ارب ڈالرز کا اُدھار جو قرضِ حسنہ ہے نہ برادرانہ سوغات۔ حوثی ملیشیا کے کسی کمانڈر کی ٹویٹ پہ صلح جوئی کا بوجھ اُٹھانے والوں نے ملاقات کی بھی تو یمن کی کٹھ پتلی حکومت کے سفیر سے۔ بڑا پڑاؤ بیجنگ میں تھا جس نے پاکستان کے نئے وزیراعظم کے پُرتپاک خیرمقدم کے لیے ہر طرف خیرمقدمی سرخ قالین بچھا دیئے۔
وزیراعظم عمران خان کے چین کے دورے کے اختتام پہ جو حاصل ہوا وہ یہ تھا کہ ’’سی پیک کو پیچھے دھکیلنے کا کوئی منصوبہ نہیں‘‘، اس وعدے کے ساتھ کہ ’’پاکستان کو اپنے مالیاتی مسائل پہ قابو پانے کے لیے ضروری امداد فراہم کی جائے گی۔‘‘ جس کے لیے ’’مزید بات چیت کی ضرورت ہوگی۔‘‘ (بحوالہ چینی نائب وزیرِ خارجہ) چینی وزیرِ خارجہ نے البتہ دونوں اطراف کے افسران کو یہ تلقین کی کہ اُنہیں ’’اہم معاملات پہ احتیاط برتنی چاہیے۔‘‘ لہٰذا ہم نے دیکھا کہ چھ ارب ڈالرز کے مبینہ پیکیج پہ وزیرِ خزانہ فقط اشاروں کنایوں میں یہ اظہار کر پائے کہ ادائیگیوں کے توازن میں 12 ارب ڈالرز کے خسارے کو پورا کر لیا گیا ہے۔ بیجنگ میں (بیگنگ نہیں) مبصرین نے ’’نمو کے نئے نکات‘‘ کے اضافے سے (جو غالباً وزیراعظم عمران خان کی عوامی خواہشوں کی تعمیل کے لیے شامل کیے گئے ہیں) سی پیک کی سماجی و انسانی شعبوں تک بڑھوتری کی نوید دی۔ مشترکہ اعلامیہ میں کسی شک و شبہ کے بغیر اعلان کیا گیا ہے کہ ’’سی پیک کے مستقبل کے عزائم پہ پھر سے مکمل اتفاقِ رائے کیا گیا۔ جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل اور اس کے امکانات کے بھرپور نتائج حاصل کرنے کے لیے سماجی شعبوں کی ترقی، روزگار کی فراہمی اور لوگوں کی حالتِ زار بہتر بنانے کے لیے صنعتی ترقی وصنعتی علاقوں کی تعمیر اور زراعت پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔‘‘ ایسا پاک چین دوستی، تعاون، اچھی ہمسائیگی کے معاہدے (جو عمران خان کے دھرنوں کے باعث ایک سال تاخیر سے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کے ساتھ 2015ء میں کیا گیا تھا) کی روشنی میں کیا جائے گا۔ دو طرفہ تجارتی معاہدے کا از سرِ نو جائزہ لیا جائے گا اور پاکستان کی چین سے برآمدات دُگنی ہو جائیں گی۔
چینی تہذیب جو ’’وسطی آسمانی سلطنت‘‘ (Heavenly Middle Kingdom) کہلاتی ہے، ہمیشہ سے صلاح لینے اور مدد مانگنے والوں کے سر پر دستِ شفقت رکھنے کی روایت رکھتی ہے، ’’نئے پاکستان‘‘ کے سوالیوں کے لیے کیوں بخیلی سے کام لیتی۔ عمران خان ایک عرصے سے غریبی اور کرپشن کے خاتمے کے لیے عوامی ترقی کے چینی ماڈل سے مستفید ہونے پہ اصرار کرتے رہے ہیں۔ عمران خان نے جب چینی قیادت سے رہنمائی اور مدد کی درخواست کی تو اُنہوں نے سی پیک کے دروازوں کو ’’سماجی و معاشی ترقی‘‘ کے گروپ کی تشکیل سے انسانی ترقی کے لیے بھی کھول دیا۔ لہٰذا، جو ہوائی نعرے تھے اُن کو ٹھوس عملی صورت دینے کے لیے چینی قیادت نے آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ایک کروڑ روزگار ہو، لاکھوں بے گھروں کے لیے گھروں کی تعمیر، صحت و تعلیم اور تکنیکی اہلیت کی فراہمی، پینے کے صاف پانی اور غربت کے خاتمے کے لیے مختلف سماجی پروگراموں کی منصوبہ بندی ہوگی۔ دیکھتے ہیں کہ یہ آئندہ کیا صورت اختیار کرتے ہیں۔ اس وقت جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں بیجنگ میں ہمارے سیکرٹری خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بنک ایک مالیاتی امداد اور مالی نظم و ضبط کے معاہدے کو ٹھوس صورت دے رہے ہیں۔ اگلے ماہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کو آخری شکل دینے کے لیے بیجنگ میں ہی دو طرفہ اعلیٰ کمیٹی کا اجلاس ہونے جا رہا ہے جو اگلے مرحلے کی ابتدا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ آپ آئی ایم ایف کے ساتھ اب مذاکرات کیوں کر رہے ہیں جبکہ ادائیگیوں میں تو خسارے کا مسئلہ حل کر لیا گیا ہے۔ اور اگر کر رہے ہیں تو یہ پہلے سے کیسے مختلف ہوگا۔ یقیناًچین بھی چاہتا ہے کہ ہمارے بے مہار خرچوں اور کم آمدنی کی معیشت میں کوئی قابلِ عمل تبدیلی آئے۔ آخر ہم کب تک مانگے تانگے کے پیسوں سے ریاستی اللّے تللّے کا بھاری بھرکم بوجھ اُٹھاتے رہیں گے۔ مالی و مالیاتی عدم توازن اگلے برس پھر سر اُٹھائے گا تو پھر کیا کیا جائے گا۔ اصل سوال دست نگری کی مفت خور اور استحصالی معیشت کی بنیاد بدل کر ایک پیداواری، انسانی ترقی کی پائیدار معیشت و سماجی بنیاد کو مضبوط کرنے کا ہے۔ بدقسمتی سے چین کے ساتھ سی پیک کو بھی ہم من و سلویٰ کے طور پر لے رہے ہیں اور کسی حکومت نے کوئی تحقیق و منصوبہ بندی نہیں کی کہ آخر ہم چین کی معاونت سے کیا چاہتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ہم یہ تعین کریں کہ کس طرح اور کن شعبوں میں ہم چین سے کیا مدد لیں؟ میرے خیال میں وہ صرف دو شعبے ہیں۔ اوّل، انسانی ذرائع کی ترقی اور خودانحصار معاشی پیداواری بنیاد کی تعمیر جس میں محنت کش عوام کی براہ راست شرکت اور منفعت شامل ہو۔ گئے تو وزیراعظم چین خفت مٹانے اور لوٹے ہیں سماجی ترقی کی چاشنی کے ساتھ۔ سو ایک اچھی قلابازی مبارک ہو!