معجزۂ رسول اللہﷺ

ڈاکٹرعبدالقدیرخان
یوں تو کلام مجید میں ہمارے پیارے رسول پاکؐ سے متعلق کئی معجزات بیان کئے گئے ہیں اور سب سے اہم شق القمر کا ہے جب رسول اللہﷺ نے انگلی اُٹھا کر چاند کے دو ٹکڑے کر دیئے تھے اور بھوپال کے راجہ نے یہ معجزہ دیکھ کر اپنے بیٹے کو مدینہ منورہ روانہ کیا تھا اور پان کے پتوں کا تحفہ بھیجا تھا۔ روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے پان کے پتے کو کھا کر فرمایا تھا کہ اس میں برص و جزام کا علاج ہے۔ قبل اس کے کہ میں دوسرے معجزۂ رسولؐ کی تفصیل بیان کروں بچپن کے سنہرے دور کی چند باتیں آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔
بھوپال ایک اسلامی ریاست تھی جو ہندو رانی کملا پتی نے سردار دوست محمد خان کو تحفہ میں دیدی تھی۔ یہ بے حد خوبصورت رانی تھی اس کے شوہر کو پڑوس کے راجہ نے دعوت دے کر زہر دے دیا تھا جس سے وہ ہلاک ہو گیا تھا۔ اس کے بعد اس راجہ نے رانی کملا پتی پر دبائو ڈالا کہ اس سے شادی کر لے مگر اس نے صاف انکار کر دیا اور قلعہ رائیسن (بھوپال سے 25میل دور اورنگزیب کے قلعہ کے قلعہ دار) کے سربراہ سردار دوست محمد خان سے مدد مانگی۔ یہ تیراہ کے یوسف زئی پٹھان تھے اور ان کے پاس تیراہ کے کئی سو جوان تھے۔
انہوں نے کملا پتی کی درخواست پر اس راجہ پر حملہ کیا اور اس کا حشر نشر کر دیا۔ رانی کملا پتی نے بھوپال ریاست دوست محمد خان کو دے دی اور اس طرح یہاں مسلمانوں کی حکمرانی قائم ہو گئی۔ یہاں تعلیم کا نظام بہت اچھا تھا۔ چھٹیوں میں ہم الف لیلہ، طلسم ہوشربا، فسانہ آزاد اور عبدالحلیم شرر اور نسیم حجازی کے ناول پڑھا کرتے تھے اور مسلمان جنریلوں کی بہادری کے قصّہ پڑھ کر خون گرم کرتے تھے۔ انہی دنوں مجھے مشہور مسلمان حکمران مجاہد نورالدین زنگی کی تاریخ پڑھنے کا موقع ملا اور اپنے پیارے رسولﷺ کے معجزے کا علم ہوا۔
میں ایک مرتبہ سرکاری طور پر شام گیا تھا اپنی ٹیم کے ساتھ، حکومت نے اور ہمارے عزیز دوست و قابل سفیر (عربی زبان کے ماہر) ڈاکٹر افضل اکبر خان نے ہمیں خوب سیر کرائی، دمشق میں ہم نے سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کا مزار، حضرت بلالؓ کی قبر، حضرت زینبؓ کا مزار اور حضرت خالدؓ بن ولید کا مزار (حمص میں) کا نظارہ کیا اور فاتحہ پڑھی، وہیں میرے پوچھنے پر ایک شخص نے ایک دکانوں سے بھری گلی میں ایک کمرے میں حضرت نورالدین زنگیؒ کا مزار دکھلایا۔ وہاں فاتحہ پڑھی۔ آج انہی سلطان نورالدین زنگی ؒکا نہایت اہم واقعہ اور رسول اللہﷺ کے معجزے کے بارے میں کچھ حالات آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ یہ ایمان افروز واقعہ ہے۔

موصل کے حکمراں امیر عماد الدین زنگی کو رات خیمے میں سوتے ہوئے اس کے دو غلاموں نے قتل کر دیا بالکل اسی طرح جس طرح گھگھڑوں نے دمیک کے مقام پر سلطان شہاب الدین محمد غوری کو عشاء کی نماز کے دوران ہلاک کردیا تھا۔

(میں نے دمیک کے مقام پر ان کی قبر پر بہت خوبصورت مقبرہ اور باغیچہ بنوا کر اس مجاہد اسلام اور بانیٔ اسلامی مملکتِ ہند کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خراج تحسین بیش کیا تھا۔ آج بھی ہزاروں لوگ اس مزار کی زیارت کو جاتے ہیں اور فاتحہ پڑھ کر سلطان کی مغفرت کی دعا مانگتے ہیں۔ اگر سلطان نے دہلی میں اپنے نائب قطب الدین ایبک کو حکمران مقرر نہ کیا ہوتا تو شاید ہندوستان میں اسلامی حکومت قائم نہ ہوتی)

ایک رات سلطان نورالدین زنگی عشاء کی نماز پڑھ کر سوئے کہ اچانک اٹھ بیٹھے اور نم آنکھوں سے فرمایا میرے ہوتے ہوئے میرے آقا دو عالمﷺ کو کون ستا رہا ہے۔ آپ اس خواب کے بارے میں سوچ رہے تھے جو مسلسل تین دن سے انہیں آ رہا تھا اور آج پھر چند لمحوں پہلے انہیں آیا جس میں سرکارِ دو عالمؐ نے دو افراد کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ یہ مجھے ستا رہے ہیں۔ اب سلطان کو قرار کہاں تھا۔

انہوں نے چند ساتھی اور سپاہی لے کر دمشق سے مدینہ کا ارادہ فرمایا۔ اس وقت دمشق سے مدینہ کا راستہ بیس بچیس دنوں کا تھا مگر آپ نے بغیر آرام کئے یہ راستہ 16دن میں طے کیا۔ مدینہ پہنچ کر آپ نے مدینہ آنے اور جانے کے تمام راستے بند کروا دئیے اور تمام خاص و عام کو اپنے ساتھ کھانے پر بلایا۔ اب لوگ آرہے تھے، جا رہے تھے، آپ ہر چہرہ دیکھتے مگر آپ کو وہ چہرے نظر نہ آئے اب سلطان کو فکر لاحق ہوئی اور آپ نے مدینے کے حاکم سے فرمایا کہ کیا کوئی ایسا ہے جو اس دعوت میں شریک نہیں؟

جواب ملا کہ مدینہ کے رہنے والوں میں سے تو کوئی نہیں مگر دو مغربی زائرین ہیں جو روضہ رسولﷺ کے قریب ایک مکان میں رہتے ہیں، تمام دن عبادت کرتے ہیں اور شام کو جنت البقیع میں لوگوں کو پانی پلاتے ہیں جو عرصۂ دراز سے مدینہ میں مقیم ہیں۔ سلطان نے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی، دونوں زائر بظاہر بہت عبادت گزار لگتے تھے۔ ان کے گھر میں تھا ہی کیا ایک چٹائی اور دو چار ضرورت کی اشیا کہ ایک دم سلطان کو نیچے کا فرش لرزتا محسوس ہوا، آپ نے چٹائی ہٹا کے دیکھا تو وہاں ایک سرنگ تھی۔ آپ نے اپنے سپاہی کو سرنگ میں اترنے کا حکم دیا وہ سرنگ میں داخل ہوئے اور واپس آکر بتایا کہ یہ سرنگ نبی پاکﷺ کی قبر مبارک کی طرف جاتی ہے۔

یہ سن کر سلطان کے چہرے پر غیظ و غضب کی کیفیت طاری ہو گئی۔ آپ نے دونوں زائرین سے پوچھا کہ سچ بتائو کہ تم کون ہو؟ حیل و حجت کے بعد انہوں نے بتایا کہ وہ یہودی ہیں اور اپنی قوم کی طرف سے تمہارے پیغمبر کے جسدِ اقدس کو چوری کرنے پر مامور کئے گئے ہیں۔

سلطان یہ سن کر رونے لگے، اسی وقت ان دونوں کی گردنیں اڑا دی گئیں۔ سلطان روتے جاتے اور فرماتے جاتے کہ میرا نصیب کہ پوری دنیا میں سے اس خدمت کے لئے اس غلام کو چنا گیا۔ اس ناپاک سازش کے بعد ضروری تھا کہ ایسی تمام سازشوں کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کیا جائے۔

سلطان نے معمار بلائے اور قبر اقدس کے چاروں طرف خندق کھودنے کا حکم دیا یہاں تک کہ پانی نکل آیا۔ سلطان کے حکم سے اس خندق میں پگھلا ہوا سیسہ بھر دیا گیا۔ بعض کے نزدیک سلطان کو سرنگ میں داخل ہو کر قبر انور پر حاضر ہو کر قدمین شریفین کو چومنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی تھی۔

یہ عرض کرتا چلوں کہ سلطان نورالدین ابو القاسم محمود ابن عماد الدین زنگی (پیدائش فروری 1118، وفات 15مئی 1174) کا تعلق ترک قبیلہ اُغذ سے تھا، آپ کے والد عماد الدین زنگی موصل کے حکمراں تھے۔ ان کے انتقال کے بعد فوج اور اُمراء نے ان کے بیٹے نور الدین زنگی کو امیر چن لیا تھا اور یہ قبیلہ شام میں سلجوق سلطنت کے صوبےکا حکمراں تھا۔ انہوں نے عیسائیوں کے خلاف کئی جنگیں لڑیں اور ان کو عبرتناک شکست دی تھیں۔