ریستوران میں کھانا کھانے سے 2 بچوں کی موت کا معاملہ، سندھ فوڈ اتھارٹی کی نااہلی سامنے آگئی

کراچی (اے ٹی ایم نیوز آن لائن) کراچی کے علاقے زمزمہ میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچوں کے انتقال کے معاملے پر سندھ فوڈ اتھارٹی کی نااہلی سامنے آگئی اور اتھارٹی اس حوالے سے پریشانی کا شکار ہے کہ سہولیات کے فقدان کے باعث زمزمہ کے ریسٹورنٹ سے حاصل ہونے والے نمونے کہاں ٹیسٹ کرائیں جائیں۔

واضح رہے کہ سندھ فوڈ اتھارٹی نے گزشتہ روز ہی زمزمہ پر واقع ریسٹورنٹ کو سیل کردیا تھا۔

وزیر خوراک سندھ ہری رام کشوری کی زیر صدارت آج سندھ فوڈ اتھارٹی کا اجلاس ہوا۔

اجلاس کے دوران انکشاف ہوا کہ زمزمہ کے جس ریسٹورنٹ سے بچوں نے کھانا کھایا وہاں سے حاصل ہونے والے نمونے جانچنے کے لیے فوڈ اتھارٹی کے پاس لیبارٹری ہی موجود نہیں ہے۔

واضح رہے کہ سندھ فوڈ اتھارٹی نے 6 ماہ پہلے ہی کام کرنا شروع کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ فوڈ اتھارٹی میں کوئی فوڈ انسپکٹر بھی موجود نہیں ہے جبکہ کیمیکل ایگزامینیشن کے لیے کوئی ایکسپرٹ بھی نہیں ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ بچوں سے حاصل ہونے والے نمونے اتھارٹی کے پاس محفوظ کرنے کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں نمونے پنجاب فارنزک لیب بھیجنے سے متعلق غور ہوا۔

یاد رہے کہ ہفتہ (10 نومبر) کی رات متاثرہ بچے اپنی والدہ کے ہمراہ پہلے ایک پلے لینڈ گئے جہاں انہوں نے ٹافیاں، آئس کریم اور چپس کھائے جس کے بعد کلفٹن کے علاقے زمزمہ پر واقع ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا۔

ایس ایس پی جنوبی پیر محمد شاہ نے بتایا تھا کہ متاثرہ خاندان نے ہفتے کی رات 11 بجے کے قریب ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا اور صبح 5 سے 6 بجے کے درمیان دونوں بچوں اور والدہ کی طبیعت خراب ہوئی اور انہیں الٹیاں ہوئیں۔ متاثرین کو اتوار (11 نومبر) کی دوپہر ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں دونوں بچے دوران علاج دم توڑ گئے جب کہ ان کی والدہ تاحال زیر علاج ہیں۔

انتقال کر جانے والے بچوں کی شناخت ڈیڑھ سالہ احمد اور 5 سالہ محمد کے نام سے ہوئی، جب کہ ذرائع کا بتانا ہے کہ متاثرہ بچوں کے والد واقعے کے وقت لاہور میں تھے۔