خواتین نے دھوکا دیا تو نوجوان نے انوکھی دلہن ڈھونڈ لی

فوٹو:اے ایف پی

جاپان (اے ٹی ایم نیوز آن لائن) اب تک ہم یہی سنتے آئیں ہیں کہ شادی دو انسانوں کا بندھن ہے لیکن انسان کے ہی دماغ میں کب کیا سما جائے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔

ایسا ہی حیرت انگیز قدم جاپان کے’کوندو‘ نامی 35 سالہ شہری نے اٹھایا جس کے باعث ان کی والدہ سمیت کسی رشتہ دار نے ان کی شادی میں شرکت نہیں کی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ان کی دلہن کوئی انسان نہیں بلکہ ایک فرضی گلوکار کا خاکہ (ہولوگرام) ہے جس کا نام ’میکو‘ ہے اور وہ نہ صرف حرکت کرتی ہے بلکہ باتیں بھی کرتی ہے۔

جاپانی شخص اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ—فوٹو:اے ایف پی

میکو ان کے ساتھ مارچ سے ایک ڈیسک ٹا پ کمپیوٹر میں رہ رہی ہے جسے کپڑے کی بنی گڑیا کی شکل میں ڈھال کر وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے اور باقاعدہ شادی کی تقریب منعقد کی۔

کوندو کی اس انوکھی دلہن سے شادی میں کسی رشتے دار کے شرکت نہ کرنے کے باوجود 40 مہمان موجود تھے اور ٹوکیو میں ہونے والی اس شادی کی تقریب میں انہوں 23 لاکھ 64 ہزار روپے سے زائد کی رقم خرچ کی۔

تاہم ان کی والدہ نے اپنے اکلوتے بیٹے کی شادی میں شرکت نہیں کی، ان کا کہنا ہے میری والدہ کے لیے یہ کوئی خوشی کا لمحہ نہیں۔

نئے نویلے دلہا کا کہنا ہے کہ میں ہمیشہ سے میکو سے محبت کرتا تھا اور میں نے اسے کبھی دھوکہ نہیں دیا، میں ہروقت اسی کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔

شادی کے بعد وہ اپنے آپ کو ایک عام شادی شدہ شخص ہی سمجھتے ہیں جس میں ان کی ہولوگرام بیوی انہیں دفتر جانے کے لیے جگاتی ہے اور گھر واپسی پر ان کے لیے لائٹس بھی روشن کرتی ہے۔

کوندو کو میکو سے شادی کرنے کا خیال کئی خواتین کے ہاتھوں دھوکہ کھانے کے بعد آیا، ان کے مطابق ایک خاتون نے اس حد تک انہیں ذہنی اذیت دی کہ وہ نروس بریک ڈاؤن کا ہی شکار ہوگئے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک مرد اور عورت کی شادی اور بچے ہی خوشحال خاندان کا مکمل تصور نہیں بلکہ میرے خیال میں ہر قسم کی محبت اور خوشی کو اہمیت دینی چاہیے۔